Near Hydery Chowk, Saidpur Road, Rawalpindi

1-Quran Therapy

قرآن تھراپی

  1. ہومن لائف سائنس 

قرآن تھراپی ایک قدرتی معجزاتی سائنس ہے جو کہ براہ راست دل پر اثرانداز ہوکر انسانی کیفیات کو کنٹرول کرتی ہے

قرآن تھراپی ایک ایسا حیرت انگیز طریقہ علاج ہے جو فطرت کے عین اصولوں کے مطابق شفاء کے اعلیٰ ترین مقاصد پورے کرتاہے دنیا ئے سائنس میں قرآن تھراپی سائنسی طرز پراپنا یا جانے والا طریقہ علاج ہے۔

(طب روحانی قرآن تھراپی)

  1. موجودہ دور نے جہاں انسان کیلئے اسائشیں اور سہولتیں مہیا کی ہیں ساتھ ہی مصروفیت اور معاشی مسائل نے ہر فرد کو ذہنی پریشانی اور بیماریوں میں مبتلا کردیا ہے۔دن بدن معاشی اور جسمانی مسائل میں اضافہ ہورہاہے۔ایسے میں بہت سے طریقہ علاج مریض کوفوراسکون تو دیتے ہیں مگر ان کی سائیڈ ایفیکٹ انتہائی مہلک ہوتے ہیں اسطرح کچھ طریقہ علاج بے ضرر ہوتے ہیں مگر ان میں لمبے عرصہ تک علاج اور سست روی مریض کو پریشان کردیتی ہے تو کیا ایسا علاج موجود ہے جو سائیڈ ایفیکٹ سے پاک ہو اور فوری بھی ہو اور ان لاعلاج امراض کا شافی علاج بھی مہیا کرے جو ابھی تک سوالیہ نشان بنے ہوئے ہیں۔
  2. قرآن تھراپی ایک ایسا علاج ہے جو فرد کے تمام ذہنی روحانی اورجسمانی مسائل کا علاج ہے قرآن مجید مکمل ضابطہ حیات پیش کرتا ہے۔اسمیں عبادات ،اخلاقیات ،معاملات ،قانون نفسیات حتیٰ کہ سائنسی علوم کے بارے میں عملی اصول وقوائد موجود ہیں۔
  3. ارشادباری تعالیٰ ہے۔

“ان سے کہوکہ زمین پر چلوپھرو اور دیکھو کہ اس نے کس طرح خلق کی ابتداء کی”

علاج بذریعہ قرآن تھراپی سمجھنے کیلئے ضروری ہے کہ ہم بیماری اور بیماری کی اصل وجوہات سے باخبر ہوں۔طبی نقطہ نظر سے بیماری کے صرف (دو)بڑے اسباب ہیں ،جبکہ روحانی یااسلامی نقطہ نظر سے بیماری کی کئی وجوہات ہیں جن کی بنیاد پر فرد ارمراض اور علامات کا شکار ہوتا ہے۔مشاہدے سے یہ بات عیاں ہوچکی ہے کہ اگر ان وجوہات پر قابو پالیا جائے رو فرد نہ صرف بہت سی ذہنی۔جسمانی اور نفسیاتی امراض سے چھٹکارا پالےگا بلکہ فرد میں بیماری کے خلاف قوت مدافعت بہت حد تک بڑھ جائیگی ،جو اسے مختلف بیماریوں سے محفوظ رکھے گا۔

بیماری کیاہے؟

صحت کی تعریف:

عام نظریہ کے مطابق جسم کی آرام کی حالت کو صحت اور بے چینی کی حالت کو بیماری کہتے ہیں ۔ماہرین کے مطابق جب قوت حیات یعنی قوت مدافعت کو کمزور کرنے والے عناصر ہوں اور قوت حیات کا جسم پر پورا کنٹرول ہوجائے تو ایسی حالت کو صحت کہتے ہیں۔صحت کی حالت میں انسان کا دل غیر محسوس طریقے سے دھڑکتا ہے ،سانس کی آمد ورفت بغیر رکاوٹ کے جاری رہتی ہے،خوراک کھانا ہضم ہونا سب نارمل طریقے پر ہوتا ہے۔لیکن جب ارادی عضلات اور نظاموں میں ابتری پیدا ہونے کیوجہ سے علامات سے انکا اظہار ہونے لگے تو ایسی حالت کو حرف عام میں بیماری کہتے ہیں۔بحرحال صحت جسم انسانی کی اس کیفیت کا نام ہے جس میں انسان جسم کے تمام اعضاء اپنے افعال باقاعدگی سے انجام دیتے ہیں ۔کیونکہ ایک عضو یا نظام کے ناکارہ ہونے پر دوسرے نظاموں پراسکے برے اثرات مرتب ہونے سے تمام نظاموں کے افعال میں خلل پیدا ہونے سے بیماری اور موت واقع ہوسکتی ہے۔

طبی نقطہ نظر سے بیماری کے دوبڑے اسباب ہیں۔

 (Exogenous Causes) بیرونی اسباب1

(Endogenous Causes ) اندرونی اسباب2(

(Exogenous Causes )بیرونی اسباب1(

بیرونی اسباب سے مراد عوامل ہیں جو کہ انسانی جسم کے اردگرد ماحول میں پیدا ہوکر انسانی جسم پر اثر انداز ہوکر بیماری کا سبب بنتے ہیں جو مندرجہ ذیل ہیں۔

(1) طبعی اسباب:حادثہ میں یاچوٹ وغیرہ سے۔

(2) موسمی اسباب:شدید گرمی میں ،سردی کے اثرات سے

(3) تابکاری کے اثرات:تابکاری کی شعاعوں سے انسانی خلیات

براہ راست متاثر ہوتے ہیں اور انکی موت واقع ہوجاتی ہیں

(4) جراثیمی اثرات:مختلف امراض کے وائرس ،جراثیم کے جسم میں داخل ہونے سے بیماری پیدا ہوجاتی ہے۔

(5) کیمیائی اسباب:کیمیائی اشیاء مثلاتیزاب سے جل جانا ادویات کے بے جا استعمال سے ادویات کے ری ایکشن کے اثرات سے

Endogenous Causes )اندرونی اسباب2(

مرض کے اندرونی اسباب سے مراد وہ اسباب ہیں جو جسم انسانی کے اندر موجود ہوتے ہیں۔

(1) موروثی یا پیدائشی

(2) ناقص انجذاب

(3) ہارمونز اور غدوں کے نظام کی بے اعتدالی کی وجہ سے Endocrine Disorders

(4) ناقص انجذاب

روحانی اسباب

روحانی اسباب سے مراد وہ تمام اسباب ہیں جن کی وجہ سے اضطراب ،تشویش،انگزائٹی ،خوف ،بےچینی،بد سکونی کی کیفیات پیدا ہوتی ہیں ۔اورجب فرد فطرتی قوانین سے ہٹ کر اپنی زندگی گزارتا ہے۔فرد کو ان کیفیات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ،یو مسلسل تشویش تذبذب یا انگزائٹی کی کیفیت فرد کے جسم میں کارفرما تمام نظاموں کی کارکردگی کو متاثر کرتی ہے اور یوں فرد میں بیماری کیلئے استعداد قبولیت بڑھ جاتی ہے ۔اور فرد مختلف امراض کا شکار ہونے لگتا ہے۔

درج ذیل تمام عناصر فرد میں ذہنی ،جسمانی روحانی اور نفسیاتی عوارضات کے بڑنے کے اسباب ہیں۔

اللہ کی یاد سے غفلت

احکام الٰہی کی بجاآوری نہ لانا

حسد

بغض

کینہ

غیبت اور غصہ

خواہشات نفساتی

جھوٹ

حرص

لالچ

طمع

زبان اور دل کا سوال

بخل

حب جاہ

نخوت وتکبر

خود پسندی

ریا

جادو

شیطانی وساوس اور جناتی اثرات

علاج بذریعہ قرآن کی اہمیت

ہمارا یہ ایمان ہے کہ حق تعالیٰ نے امراض وتکالیف کیلئے جسطرح دوائیں پیدا کی ہیں اسی طرح ہر مرض وتکلیف کو دور کرنے کیلئے دعا اور ذکر کا طریقہ بھی سکھایا ہے ،چنانچہ حدیث کی کتابوں میں طب نبویﷺ بھی ذکر ہے ۔لیکن عام طور پر لوگ اپنی بے شعوری اور ضعف ایمان کی وجہ سے اس پر عمل نہیں کرتے اور صرف ڈاکٹر ہی کی طرف رجوع کرتے ہیں گویا طب ایمان کو چھوڑ کر طب یونانی پر ہی گرتے ہیں گو عام طور پر اب بھی مسلمان یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ مرض ،نبض وشفاء صرف حق تعالیٰ ہی کی ہاتھ میں ہیں اس عقیدے کی بناء پر قرآن پاک میں واضح نصیحت ہے۔

واذامرضت فھو یشفین (پارہ 19رکوع9)

“اورجب میں بیمار ہوجاتا ہوں تو وہی مجھے شفاء دیتا ہے”

حقیقی شفاء ،صحت کو کسی خارجی محدود شے کے ذریعے حاصل کرنے کا عمل نہیں بلکہ یہ نتیجہ دعا ء وذکر کے ذریعے اس حیات مطلقہ کے آگے تسلیم نفس کا جو ہم پر محیط ہے ۔اپنی زندگی میں ہم نے مدتوں بڑے اہتمام اور رغبت کے ساتھ خارجی اشیاء کی مدد سے صحت اور شفاءکی تلاش کی ہے اور اسکے حصول کی خاطر بڑی جدوجہد کی ہے لیکن عموما صحت وآرام کی بجائے مرض وتکلیف ہی سے ہمیں سابقہ رہاہے ۔بیماری نے اپنی شکلیں بدلیں ہمارا ساتھ نہ چھوڑا شاید خود ہماری اس رغبت اہتمام ہی نے ہمیں اپنے مطلوب ومحبوب سے محروم رکھاہے۔

شفاء کا ہم میں اسی وقت کا مل ظہور ہوتا ہے۔جب ہم اپنے آپ سے بے خبر ہوکرنفس کی سد سکندری کو درمیان سے اٹھاکر شافی مطلق کے آگے سرتسلیم خم کردیں۔جب اپنی مضطرابانہ تلاش وسعی کو موقوف کرکے سکون واطمینانیت اور سکنیت کا پہلو اختیار کرلیں ۔قلب کی اس کیفیت میں شفاء کا راز پنہاں ہے ۔اور یہ کیفیت قرآن وحدییث کی طرف راغب ہونے احکام الٰہی کی بجا آوری اور ذکر ودعا سے پیدا ہوتی ہے۔اسی لئے خالق کائنات نے حصول شفاء کیلئے قرآن پاک کی طرف توجہ دلائی ہے۔

ولارطب ولا یابس الا فی کتاب مبین(پارہ7رکوع13)

“اور نہ کوئی تر چیز اورنہ خشک چیز ہے مگر وہ سب کتاب مبین میں ہے”

ایک اور جگہ ارشاد ہے

وننزل من القرآن ماھو شفاء و رحمت اللمؤمنین

“اورہم قرآن میں ایسی چیز نازل کرتے ہیں کہ وہ ایمان والوں کے حق میں شفاء اور رحمت ہے”

یہ معلوم ہوتا ہے کہ جو خاصیت بھی افراد موجودات میں پائی جاتی ہیں وہ قرآن پاک کے حرف وکلمات وآیات سورۃ کے ضمن میں بہترین اور کامل ترین طریقہ موجود ہے چنانچہ ایک جگہ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔

“وہ یہ بصیرت کی روشنیاں ہیں سب لوگوں کیلئے اورہدایت اور رحمت ہے ان لوگوں کیلئے جو یقین لائے”

حضرت علی کرم اللہ وجہہ ٓسے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا:

“خیر دواء القرآن ،بھترین دوا قرآن ہے۔”

ابن حبان نے نبی کریم ﷺ سے کسی شخص کے متعلق مشورہ کیا تو آپ نے فرمایا

اعلجھا بکتا اللہ

“اسکا علاج اللہ کی کتاب سے کرو”

ایک جگہ ارشاد ہے

من لم یستشف باالقرآن ملاشفاء اللہ

“جس نے قرآن سےشفاء طلب نہ کی اسکو اللہ کی شفاء نہ ملی”

چنانچہ ایک جگہ ارشاد ہے

القرآن ھوالشفاء

“قرآن شفاء ہے(بیھقی من واللہ)”

قرآن پاک نے تمام راستے واضح کردئیے ہیں قرآن پاک شفاء اور رحمت ہے قرآن پاک دلوں کا اطمینان ہے بہترین دواء ہے تمام مسائل دکھوں اور پریشانیوں کا مداوا ہے۔

علاج اور اس کا دائرہ کار

یہ دنیا ازمائش گاہ ہے اس میں صرف مثبت پہلوں ہی نہیں بلکہ ہر مثبت پہلو کے ساتھ پہلوں بھی موجود ہے تاکہ انسان دونوں کے درمیان امتیاز کرے اور عقل سلیم سے کام لینے اور انبیاء علیہ السلام کی اتباع کی روشنی میں ان میں فرق کرے۔اللہ رب العزت نے انسان کو جسم بطور امانت سونپا ہے تاکہ اسکی ہوری حفاظت کا اہتمام کرنا یا نہ کرنا ظاہر ہوجائے نیز اسلئے بھی کہ انسان کی کمزوری اوربے بسی ظاہر ہوجائے کہ انسان خواہ کتنا بڑا ماہر ڈاکٹر یا صاحب ثروت کیوں نہ ہو ں اللہ تعالیٰ کی مرضی کے سامنے بے بس اور عاجز ہے ۔بحرحال بیماری رجوع الی اللہ کا ذریعہ بنتی ہے بیماری انسان کو خدا کی یاد دلاتی ہے ،دنیا کا ظاہری نظام چونکہ اسباب ظاہری سے مربوط ہے اسلئے بیماری پریشانی ،دکھ اور تکلیف کو دور کرنے کیلئے شریعت علاج کی اجازت دیتی ہے

موطا امام مالک کی روایت ہے کہ رسول ﷺ نے فرمایا

الزل الاوالذی الاء(موطا جلد 2)

“جس نے بیماری اتاری ہے اس نے دوا بھی اتاری ہے”

صحیح بخاری کی روایت ہے رسول ﷺ نے فرمایا

مانزل اللہ داء الا انزال لہ شفاء

“اللہ نے جو بھی بیماری اتاری ہے اسکے لئے شفاء بھی اتاری ہے”

سنن ابی داود میں یوں ہے

ان اللہ جعل لکل دواء فتداوواء ولاتداووابحرام

“اللہ نے ہر مرض کا علاج رکھا ہے اسلئے تم علاج کرو لیکن حرام چیز سے علاج نہ کرو”

مسلم شریف میں اسطرح ہے

لکل داء دواء فذااصیب ،دواء برآباذان اللہ تعالیٰ

“ہربیماری کی دوا ہے اگر بیماری کے مطابق دوا ہو تو اللہ کے حکم سے شفاء مل جاتی ہے”

علاج کے متعلق عقیدہ

علاج کرنا سنت سے ثابت ہے اور حکم شرعی ہے علاج کرتے وقت یا علاج لیتے وقت یہ اعتقاد ضروری ہے کہ اللہ کے علاوہ کوئی شفاء دینے والا نہیں ہے۔

لاشافی الاانت

یعنی اے اللہ شفاء دینے والا تیرے سوا کوئی نہیں اسلئے یہ عقیدہ رکھے کہ شفاء اللہ ہی کے اختیار میں ہے دوا صرف سبب ہے علاج معالجے کا دراصل اللہ ہی سے شفاء طلب کرنے کے ذریعے ہیں۔

علاج کے شرعاؑ طریقے

اول دعا:

دعا بیماری سے شفاء حاصل کرنے کا موثر ذریعہ ہے ابن قیم لکھتے ہیں

والدعاء من انفع الادویہ ھو عد وبعالجہ۔ویمنع نزولہ ویرفعھاویخففہ اذا انزل وھوسلاح المومن

“دعا سب سے فائدہ مند علاج ہے یہ مصیبت کی دشمن ہے ،مصیبت کو دورکرتی ہے اور اس سے مزاحمت کرتی ہے اسکو آنے سے روکتی ہے مرض کے آنے کے بعد ہوتو اسکو دورکرتی ہے۔یا پھر اس میں تخفیف پیدا کرتی ہے اور یہ مومن کا ہتھیار ہے۔

دوم: دم

دم کرنے کے واسطے شرط ہے کہ دم کے الفاظ ایسے ہونے چاہئے جن کے معنی معلوم ہوں اور کوئی شرکیہ بات اس میں نہ ہوں۔

امام رازی شرح مسلم میں لکھتے ہیں۔

وجمیع الرقی عندنا جائزۃ اذاکانت بکتاب اللہ غزوہ جلہ وذکراللہ وینھی عنھا بالکلام الاعجمیٰ مالا یعرف معناہ بجوازان ان یکون فیہ کفر او شرک(المعلم بغواید مسلم)

“ہمارے نزدیک تمام دم جائز ہیں جبکہ وہ اللہ کے کلام یا ذکر سے ہوں البتہ غیرعربی دم جس کے معنی معلوم نہ ہوں،ایسا دم ممنوع ہے ،کیونکہ ممکن ہے اس میں کوئی کفریہ کلام یا شرکیہ بات ہو اگر دم کرنے والا سنا کرنہ پڑھے تو دم کرنے والے کا متبع شرع ہونا ضروری ہے۔

سوم :تعویذ کا استعمال شرعاجائز ہے

اور اسی پر امت کا عمل ہے ملاعلی قاریؒ نے مرقات مشکوٰۃ جلد8 میں لکھا ہے کہ قرآن اللہ کے اسماء وصفات یا مسنون وماثور دعاؤوں سے علاج کرنا تعویذ کی شکل میں ہو یا دم منتر کی شکل میں ہر صورت میں جائز ہے بلکہ افضل ہے ۔البتہ عبرانی وغیرہ میں نامعلوم معنی والے تعویز جائز نہیں کیونکہ اس میں شرکیہ کلام ہونے کا احتمال ہے۔

حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ فرماتے ہیں

“بعض الفاظ جن کے معنی معلوم نہ ہوں یا ایسا نقش جس میں ہندسے لکھے ہوں لیکن یہ معلوم نہ ہو کہ کس چیز کے ہندسے ہیں ایسے نقش وتعویذ کا استعمال ناجائز ہے۔البتہ متبع شریعت کسی ایسے عالم یا بزرگ سے ایسے تعویذ یا نقش لکھوانا جائز ہے جن کے بارے میں یہ یقین ہو کہ وہ ناجائز تعویز یا نقش نہیں لکھتے۔

چہارم :جڑی بوٹیوں اور ادویات سے علاج

یہ بھی احادیث سے ثابت ہے کہ کسی حرام یا مشتبہ چیز کی ملاوٹ نہ ہونے کی شرط کے ساتھ یہ طریقہ بھی جائز ہے۔

پنجم:احکام شریعت کی اتباع کرنا

احکام شریعت کی اتباع کرنے سے بہت سے بیماریوں کا خاتمہ ہوجاتا ہے۔اسکی تفصیلات حضرت مجدد تھانویؒ نے اپنی کتاب “احکام اسلام عقل کی نظرمیں”کے اندر بیان کی ہیں۔مزید یہ کہ طارق حکیم چغتائی کی “سنت نبوی اور جدید سائنس”ڈاکٹر غزنوی کی کتاب “علاج نبویﷺ اور جدید سائنس”جیسی کتابوں نے قیمتی علمی مواد فراہم کرکے امت مسلمہ پر بڑا احسان کیا ہے۔

علاج بذریعہ قرآن سے خاطر خواہ فوائد حاصل نہ ہونے کی وجوہات

اکثردرمند شفاء کی تلاش میں قرآن مجید سے کام لیتے ہیں اور اپنے مقصد کے حصول میں ناکام ہوتے ہیں ۔حصول مقصد سے محرومی اور ناکامی کی درج ذیل وجوہات ہیں۔

(1)عامل کا عاصی ہونا:

کبیرہ گناہوں کا مرتکب ہونا ،صدق حلال سے بے پرواہ ہونا یا پھر اسکا عمل محض تجربہ کی خاطر ہوتا ہے۔خوداس پر یقین نہیں رکھتا شک کے مرض میں مبتلا ہوتا ہے۔حسن ظن واعتقاد صحیح وجازم سے محروم ہوں۔

(2)آیات قرآنیہ کی تلاوت کے مخارج وصفات میں تغیر سے بی شفاء کی تجلی نہیں ہوتی

شک ریب سے قلب کو بلکل خالی کرکے ایمان کا مل کیساتھ جب ایک مومن قرآن عظیم سے شفاء کا حصول قطعی ہے ۔جیسا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایاہے۔

“اگر کوئی صاحب یقین قرآن پاک کو پہاڑ پربھی پڑھیں تو وہ اپنی جگہ سے ہٹ جائے”

ہرمومن کیلئے قرآن کریم نور ہے ،سرور ہے شفا مافی الصدور ہے رحمت وشفاء ہے اسی وجہ سے علامہ قسطلانی نے شرح بخاری میں طب روحانی کو طب جسمانی سے زیادہ قوی قرار دیا ہے۔یہ بات اس حدیث شریف سے سمجھ آتی ہے کہ قرآن پاک اثر قوی ہے پہاڑ بھی اپنی جگہ سے ہل سکتا ہے تو پہاڑ کے مقابلہ میں جمسانی بیماری کا کیا وزن ہوسکتا ہے۔

قرآن تھراپی

یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ اسلام میں تعلیمات پر عمل کرنے والا عام طور پر ایک لمبی صحت مند زندگی گزارتا ہے۔کیونکہ قران مجید نے ہر اس چیز کی تاکید کی۔جومفید ہے اور ہر اس چیز سے منع فرمایا ہے کہ جو غیر مفید ہے ۔اسطرح قرآن پاک میں ہمارے جسمانی ،روحانی ،اورنفسیاتی مسائل کے حل کیلئے اصول ،قوانین واضع کیے ہیں۔

قرآپاک کی طرف مائل ہونے ان کی تلاوت صحیح مخارج کیساتھ کرنے سے اور انکی تلاوت سن لینے سے اور شریعت کے مطابق احکامات کی پابندی کرلینےسے

Inferiority complexاورGuilt complex

کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔

طب کے میدان میں اس قدر ترقی ہوچکی ہے کہ اسکی چوٹی کو چھونا ایک مشکل امر ہے روز بروز کی سائنسی ترقی کیوجہ سے جہاں انسان کو بہت سی سہولتیں میں سر ہیں وہاں سے انسان بہت سے نئے مسائل کاشکار ہے۔مادہ پرستی ،وسائل کی کمی اور صحت کی تعلیم کے فقدان کیوجہ سے دن بدن ایسے مسائل درپیش ہیں جن پر قابو پانا انسان کے بس میں نہیں رہا،کہ سینکڑوں ادارے اس پر انتھک محنت کررہے ہیں۔لیکن ابھی بھی کئ امراض کے خاتمے کیلئے کوئی خاطر خواہ نتائج مرتب نہیں ہورہے۔مہنگائی کے اس بھر پور دور میں اب سستے اور مؤثر طریقہ علاج کا میں سرہونا ناپید ہوچکا ہے ۔مہنگائی اور مسائل کے بھر پوردور میں طب کے میدان ایک ایسی کاوش جاری وساری ہے جو بیماریوں کی اسل وجوہات کی جانچ پڑتال کے بعد مکمل علاج کا پیش خیمہ ہے یہ علاج اسلام اور قرآن کے اصولوں اور قوانین کی مد نظر رکھتے ہوئے وضع کیا گیا ہے۔

“مشاہدے اور تجربات سے یہ حقیقت عیاں ہوچکی ہے کہ بہت سے امراض کا بغیر ادویات کے شافی علاج ممکن ہے”

علاج کا طریقہ کار

تمام امراض کے مکمل علاج کیلئے مریض کی جسمانی وروحانی مکمل تشخیص مروجہ جدید میڈیکیل لیبارٹریز کے مطابق کرنے کے بعد مرض کی نوعیت اور شدت کے اعتبار سے مریض کے علاج کیلئے قرآن مجیدکی سورتوں کا انتخاب کیا جاتا ہے۔

مرض کی نوعیت اور انتخاب شدہ آیات مبارکہ کی سورتوں کی تلاوت کے ذریعے پیدا ہونےوالی آواز کی لہروں کو مریض کے جسم میں منتقل کیا جاتا ہے۔تلاوت کے ذریعے آواز کی یہ لہریں خون میں شامل ہوکر انوارات اور برکات کا براہ راست دل پر منتقل کرتی ہیں۔چونکہ قرآن مجیدبذات خود توانائی کا منبع ہے لہٰذا یہی توانائی جسم میں داخل ہوکر ہمارے جسم میں موجود قوت مدافعت کو مضبوط کرتی ہے اور جسم موجود یہی قوت مدافعت بیماریوں کے خلاف ایکشن لیتی ہے اور بیماریوں پر غالب آکر جسم سے بیماریوں کو ختم کردیتی ہے۔

قوت مدافعت ہی اک ایسی فورس ہے جب یہ کمزور ہوجائے تو جسم بیماری قبول کرنے کی استعداد پیدا ہوجاتی ہے۔اور جب صحت مند ہو تو جسم بیماریوں پر غالب آجاتا ہے۔ماہرین طب کے نزدیک قوت مدافعت کو کمزور کرنے والی سب سے بڑی حالت تشویش ہے ،یعنی انگزائٹی کا جسم پیدا ہونا ہے اللہ پاک کا ذکر قرآن مجید کی تلاوت اور احکام الٰہی کی بجا آوری جسم سے اس حالت کو ختم کرکے اطمینان پیدا کرتی ہے یوں جسم میں قوت مدافعت مضبوط سے مضبوط تر ہوجاتی ہے۔

مرض کے مطابق علاج کا انتخاب

سورتوں کے انتخاب کا طریقہ مرض کی مکمل تشخیص اور جانچ پڑتال کے بعد مرض نوعیت کے مطابق درج ذیل طریقوں سے قرآن مجید کی آیات اور سورتوں کا انتخاب کیا جاتا ہے۔

1۔ احادیث نبویﷺ بزرگان دین علمائے اکرام کے فرمودات اور ارشادات کے تحت

2۔ استخارہ کے تحت

3۔ مریض کی کیفیات اور علامات کے مطابق فرد کو مطالعہ کیلئے اسلامی کتابوں اور مختلف اذکار کی پابندی کروائی جاتی ہے۔

علاج کیلئے شرائط

1۔ مریض باوضو تشریف لائیں

2۔ پانچ نمازوں کا خاص خیال اور اہتمام کریں

3۔ صدقہ کی پابندی کریں

4۔ قرآن مجید اور منزل کی تلاوت روزانہ کیجائے

5۔ استغفار۔۔۔۔۔ تیسرا کلمہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ درودشریف ،یہ تسبیحات صبح وشام 100 مرتبہ پڑھی جائے۔

6۔ مستورات باپردہ تشریف لائیں۔

7۔ جس سورت مبارکہ سے علاج منتخب کیاگیا ہے ۔اسکی تلاوت روزانہ کی جائے

8۔ قرآن مجیدکو صحیح تلفظ اور معنی کیساتھ آداب کی رعایت رکھتے ہوئے پڑھا جائے