Near Hydery Chowk, Saidpur Road, Rawalpindi

اہمیت حجامہ

 


حجامہ کی طبی حیثیت:

لغوی معنی:حجامہ کا لغوی معنی پکڑنا ہے یعنی اضافی ،غیر ضروری ،فاسد ،غیر طبعی ،گندے خون کو حجامہ کے ذریعے پکڑ کر جسم سے نکال دیا جاتا ہے حجامہ کو پچھنے لگانا یا سینگی کھچوانا بھی کہا جاتا ہے۔قدیم دور میں کیونکہ جانور کے سینگ لگاکر حجامہ کیا جاتا تھا اسلئے اسے سینگی لگا نا کہتے ہیں جسے حجامہ باالقرآن بھی کہا جاتا ہے۔
حجامہ کیوں کیا جاتا ہے؟

ہم جو خوراک کھاتے ہیں اس کا کارآمد حصہ جزوبدن بن کر بقیہ حصہ فضلا ت کے صورت میں خارج ہوجاتا ہے۔جس کیلئے جسم کا نظام اخراجِ فضلات کا م کرتا ہے۔یہ فضلات بول وبراز ،پسینہ اور ناک کے فضلات کے صورت میں خارج ہوتے ہیں۔پھر کچھ فاضل اور ردی مادے خون میں یا بدن میں زیر جلد جمع ہوتے رہتے ہیں۔جوبہت سے امراض کا باعث بن جاتے ہیں۔جن کو بدن سے خارج کرنا بہت ضروری ہے جو کہ معالج کبھی جلاب آور ادویات سے خارج کرتاہے۔کبھی فصد (یعنی رگ کو کاٹ کر فاسد خون نکالنا)کے ذریعے اسی طرح حجامہ جونکیں لگانا اورقے آور طریقے اختیار کرنا بھی اہم معالجہ ہے چنانچہ طبیعت اور اس کے افعال کی پیروی کرنے کی نسبت سے طبیب گویا طبیعت کاخادم ہے اور یاد رکھیں بدنی مواد ورطوبات وہ سیال اجسام ہیں جو ازخود جسم سے اخراج کیلئے آمادہ نہیں ہوتے اور نہ ہی اخراج کی جانب ان کا دفیعہ ہوتاہے بلکہ ان کو طبیعت بدنیہ نکالتی ہے یا طبیعتِ خلطیہ۔

مادہ کے اخراج کیلئے پہلی حرکت کو حرکت قسریہ اور دوسری حرکت کو حرکت طبیعہ کہتے ہیں ۔جسم میں بے شمار فاسد،غیرضروری اور زہریلے مادے موجود ہوتے ہیں۔جو بعض عوارضات کا باعث بنتے ہیں جیسے وائرس،(Virus)ٹاکسن(Toxin)فیبرن (Fibrin)اور ڈیڈسیل(143143Dead Cells)وغیرہ حجامہ کے ذریعے جلد سے نائٹرک اکسائیڈ (N.O.)خارج ہوتا ہے۔جس سے خون کی گردش تیز ہوجاتی ہے۔اور قوت مدافعت بڑھ جاتی ہے۔کینسر کے اسباب اور مواد میں کمی آتی ہے۔جراثیم کش اثرات بڑھ جاتے ہیں ۔نظامِ اخراج فضلات اندرونی اور بیرونی میں بہتری آتی ہے۔اسی طرح طبعی طور پر بدن میں خلیات کی توڑپھوڑ سیل ڈویژن (Cell Division)ہوتی رہتی ہے اور بے شمار خلیات (Cell)مردہ بھی ہوتے ہیں اگرجگر ،گردے اور پھیپھڑے صحیح فعل سرانجام دے رہے ہو ں تو قوت مدافعہ ان فاسد ردی مادوں کو طبعی طور پر خارج کرتی رہتی ہے۔تا ہم پھر بھی کچھ مردہ خلیے خون میں شامل رہتے ہیں۔اور کبھی مقامی عضوی طور پر بیماری یا خرابی کا باعث بنتے ہیں اور اعضائے رئیسہ دل ودماغ جگر پر بوجھ کا سبب بھی بنتے ہیں۔اور جب طبیعت ان مادوں کو کسی سمت دفع کرنا چاہتی ہے یا مادہ خون ان سمتوں میں دفع ہوتاہے۔تو انکے اخراج کیلئے ان کو ہلکا کرنے میں طبیعت کی مدد کرنا ضروری ہے اور یہ فصد (رگوں کو شگاف دے کر خون نکالنے ) یا حجامہ کے ذریعے پچھنے لگا کر خون نکالنے کی صورت میں ہوتی ہے۔حجامہ یا سینگی ان کے اخراج میں ایک معاون عمل ہے جب ان ردی فاسدمادوں کو زیر جلد سے حجامہ کے ذریعے نکالا جاتا ہے۔تو اعضائے رئیسہ سے بوجھ بھی اتر جاتا ہے۔اور ہارمونز(Hormons)کا نظام اور فعل بھی درست ہو جاتاہے ۔اور بیماریوں کے خلاف قوتِ مدافعت بھی بڑھ جاتی ہے۔

 

حجامہ کی تاریخی حیثیت


صدیوں سے حجامہ قدیم اقوام میں مختلف امراض کے علاج کیلئے معروف اور عام طریقہ علاج رہا ہے۔اگر چہ اس کی ابتدائی تاریخی حالت کا قطعی اندازہ لگانا ممکن نہیں۔البتہ قدیم اطباء ،فلاسفر زاور معالجین وعوام میں یہ معروف علاج رہا ہے۔سائیٹیفک کمیونٹی کے مطابق حجامہ کی تاریخ تقریباً 5000سال پرانی ہے۔اور 3000سال سے چین اور جاپان میں اس کی پریکٹس ہورہی ہے۔یہ 1550ء قبل مسیح ومغربی یونان میں بھی موجود تھا جو بیسویں صدی تک مصر سے عرب ممالک ،ایشیائی ممالک ،چائینز ،مشرق وسطیٰ پھر یورپ ممالک میں اپنی حیثیت منواچکا تھا۔
قدیم اہل مصر کے درباروں میں آویزاں ومزین اس فن او ر اہل فن سے متعلقہ تصاویر سے پتہ چلتا ہے کہ فن حجامہ ان کے ہاں مروج طریقہ علاج تھا،قدیم مصری اور رومی وغیرہ علاج بالقرن یعنی جانوروں کے سینگ سے پچھنے لگایاکرتے تھے ۔اس وجہ سے اسے سینگی لگا نا کہتے تھے۔یہ صورت برصغیر میں مروج اور معروف رہی تا ہم ہندی اطباء جونکیں لگانے سے زیادہ معروف تھے جبکہ یونان ،جرمن اورروم کے لوگ شیشے کے گلاس اور پیالوں کے ذریعے حجامہ کھنچواتے تھے۔چنانچہ قدیم طبی کتب میں تواتر سے حجامہ کا ذکر ملتا ہے حجامہ سیکھنے کیلئے لوگ باقاعدہ شاگردی اختیار کیا کرتے تھے،اور اس فن کے ماہر اطباء سے یہ فن پڑھا اور سیکھا کرتے تھے ۔

 

 

 

موجودہ دورمیں حجامہ

 

آج کل شیشہ گلاس کے پیالوں اور کپ سے (Glasses Bowl Glasses Cups )پلاسٹک کے کپ(Plastic Cups)سے ویکیوم پمپ (Vacuum Pumps )عام ریحی ہوائی یا پریشر پمپ وغیرہ سے حجامہ کیا جارہا ہے۔
1987
ء سے 1992ء تک ایک سروے کے مطابق جرمنی کی نصف کے قریب آبادی حجامہ سے مستفید ہورہی تھی۔امریکہ میں روز بروز اس کی ڈیمانڈ بڑھ رہی ہے وہاں اکثر میڈیکل سکولوں میں حجامہ بطور انتہائی اہم مضمون پڑھایا جاتا ہے۔امریکہ کے 60فیصد میڈیکل سکولوں میں اس کی تعلیم لازمی ہے ۔آسٹریلیامیں بہت سے ادارے اور بہت سی تنظیمیں حجامہ کا ڈپلومہ دے رہی ہے اور دن بدن اس کی ڈیمانڈ بڑھ رہی ہے۔U.K.میں اکثر وبیشتر اور ٹاؤنوں میں حجامہ کے اشتہارات لگتے ہیں۔ویتنام میں حجامہ کو سرکاری سطح پر مقام حاصل ہے۔
چند سال پہلے حجامہ اور فصد سے ہی تصور لے کر آکو پنکچر،آکو پریشر نے بہت شہرت حاصل کی لیکن اس طریقہ علاج کے خاطر خواہ فوائد حاصل نہ ہوئے کیونکہ یہ اصل کی نقل تھی اور اس طرح چین اصل علاج حجامہ وفصد کی طرف راغب ہوا اور اب حجام چین کا قومی طریقہ علاج ہے۔خلیجی ریاستوں میں عام اور معروف ہوچکاہے۔ترکی نے اس پر بہت زیادہ محنت کی ہے۔
فن لینڈ (Fin land)کی وزارت منسٹر ی نے آف افئیر ہیلتھ(Ministry of Social Affairs and Health)نے یہ بات تسلیم کی ہے کہ آنے والے وقت میں آلٹرنیٹو میڈیسن(Alternative Medicine)حجامہ ہوگی۔جبکہ آج یورپ کی یونیورسٹیوں میں آلٹر نیٹو میڈیسن (Alternative Medicine)کے طلباء کو باقاعدہ نصاب میں پڑھایا جارہا ہے۔

 

حجامہ اور مصری ماہرین کی جدید تحقیق:


مصر میں جدید میڈیکل سائنس کی ایک ریسرچ ٹیم نے ڈاکٹر الصالح کی قیادت میں حجامہ کے حوالے سے جدید تحقیقی کام کے بعد اس طریقہ علاج کوطیبہ تھیوری کے نام سے موسوم کیا ہے۔چونکہ پیارے نبی کریم حضرت محمد نے حجامہ پر مہر تصدیق ثبت کرکے اسے مسلمہ ومصدقہ مقام عطا کردیا اور اسے خود بھی اختیار کیا ۔لہذا آپ ؐ کے شہر مدینہ منورہ کی نسبت سے اس طریقہ علاج کو طیبہ تھیوری قرار دیا گیا۔طیبہ تھیوری میں کیا کہا گیا ہے،آپ بھی ملاحظہ کریں۔

 

طیبہ تھیوری (Tayyaba Theory)


حجامہ ایک چھوٹی سرجری(Minor Excretory Surgery)ہے جسکا طریقہ کار گردے کا صاف کرنے والا عمل(Glomerular Filtration)اورپیپ بھری سوزش کی بذریعہ سرجری صفائی(Abscess Incision and Drainage)مشابہ ہے۔اس میں منفی وباؤ کے ساتھ فاسد مواد (C.P.S.)خارج کردیا جاتا ہے۔یہ فاسد مواد (Causative Pathological Substances)دوطرح کے ہیں ایک بیماری کی اصل وجہ بننے والے اجزاء(Diseases Causing Substances)اور دوسرا بیماری سے متعلق اجزاء(Diseases Related Substances)،حجامہ دونوں طرح کی مواد کو جسم سے نکال دیتاہے۔فاسد مواد (C.P.S.)جلد کے باریک سوراخوں(Pores)سے پریشر کے ساتھ فلٹر ہوکر باہر نکل جاتے ہیں۔

 

حجامہ کی شرعی حیثیت


حجامہ کی شرعی حیثیت اظہر من الشمس ہے متعد د صحیح احادیث اس کے جواز میں موجود ہیں۔ کتب احادیث میں اس کے فضائل اور فوائد پہ مشتمل متعدد روایات موجود ہیں۔ حافظ ابن قیم الجوزیہ ؒ نے اپنی کتاب طب نبوی میں احادیث کی روشنی میں اس موضوع پر ایک باب بیان کیا ہے ،چنانچہ بعض روایات کی سند اگرچہ ضعیف ہے لیکن دوسری صحیح اور مستند روایات کے ملنے سے ان کی استنادی حیثیت قوی سمجھی جائے گی۔
ایک افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ہمارے علماء اکرام اساتذہ ومدرسین ،علوم دینیہ تعلیم حدیث کے وقت حجامہ کی روایات پڑھتے رہے۔لیکن عملی طور پر اسے اختیار کرنے اور سمجھنے کی کسی نے کبھی زحمت گوارہ نہیں کی ،جبکہ آج چین نے اسے نئی جدت اور نئے انداز میں اجاگر کیا ہے۔اور آج یہ بعض یورپی ممالک اور اکثر عرب ممالک میں معروف عام ہے۔

 

 

 

 

پیارے نبی کریم کے ارشادات:

 

1 عن ابی ھریر ۃ قال ان کان فی شیء مما تداوون بہ خیر فالحجامۃ
ابن ماجہ،واللفظ لہ وابوداؤد کلاھما فی الطب رقم۳۴۷۶وقال ابن ماجہ اسنادہ حسن
ترجمہ حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے نبی کریم نے فرمایا علاج معالجے کیلئے تم جو طریقے اختیار کرتے ہو ان میں بہترین طریقہ حجامہ ہے۔

2 عن ابن عباس عن النبی قال الشفاء فی ثلاثۃ فی شرطۃ محجم اوشربۃ عسل او کیۃ بنار وانھی امتی عن الکی۔
رواہ بخاری رقم الحدیث۵۷۸
ترجمہ: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ،نبی کریم نے ارشاد فرمایا ۔شفاء تین چیزوں میں (بھی رکھی گئی)ہے۔
1 حجامہ کے ذریعے ضرب ل(کٹCut)لگانے ہیں۔
2 شہد کے استعمال میں۔
3 آگ سے داغ دینے میں۔
آپ نے مزید فرمایالیکن میں اپنی امت کو آگ سے داغنے سے منع کرتا ہوں۔

 

 

 


آگ سے داغنا: (Cauterization)


آگ سے داغنا بھی علم طب میں ایک مفید طریقہ علاج ہے قدیم دور میں تیر تلواروں سے لگنے والے زخم مندمل کرنے کیلئے لوہے چاندی یاسونے کے مخصوص آلات پہ تپا کر زخم پہ لگائے جاتے تھے جس سے زخموں سے بہتا ہو ا خون رک جاتا تھا ،اس عمل کیلئے دھات کا استعمال خاص اہمیت کا حامل تھا۔سونے کی دھات سے بنے آلات سے داغنہ سب سے افضل سمجھا جاتا ہے یہ عمل صدیوں پر ا نا ہے۔

 

ممانعت کی حکمت:


آگ سے داغنے کو حدیث میں بھی شفاء بخش اور مفید عمل قرار دیاگیاہے۔لیکن اس کے باوجود اس سے منع کرنے میں ہمیں تین وجوہات سمجھ آتی ہیں جو حکمت سے مزین ہیں۔
(1(دھات کے بنے آلے کو آگ سے خوب گرم کرکے زخم پہ لگانا ایک نہایت تکلیف دہ اور دردناک عمل ہے جبکہ معمولی چنگاری یا دیا سلائی کی آنچ سے بھی جسم پہ آبلہ بن جاتا ہے اور شدید جلن اور تکلیف ہوتی ہے۔لہٰذا ایک تو مریض پہلے ہی تکلیف پہ شدید تکلیف دینے کے مترادف ہے اور دوسرا بعض نازک طبائع کیلئے ایسی شدت تکلیف ناقابل برداشت ہوتی ہے۔اور کمزور دل لوگوں کی حرکت قلب رک سکتی ہ۔شاید اسی وجہ سے آگ سے داغنے سے منع فرمادیا۔

ایک دوسری بات جو ممانعت کے اسی حکم میں سمجھ آتی ہے ۔وہ ختم نبوت کا مسئلہ ہے پہلی قومیں پہلے لوگ قوی الجثہ لحیم وشحیم تھے۔آخرالزماں لوگوں کی نسبت قوتِ مدافعت ،قوتِ برداشت ،قوتِ اعصاب ،جنگ وجدل اور جفاکشی میں زیادہ مضبوط تھے اور ایسی تکالیف برداشت کرلیتے تھے جبکہ آخر الزماں لوگوں کا مدافعتی ،اعصابی ،نظام اور دل اتنے کمزور ہیں کہ ان میں ہارٹ اٹیک سے شرح اموات بھی بڑھ گئی ہے اور اب انکی رہنمائی کیلئے نبی آخرالزماں کے بعد کوئی دوسرا نبی نہیں آنے والا لہذا تاجدار ختم نبوت ؐ نے آخرالزماں لوگوں بالخصوص اپنی امت کو چودہ سو سال پہلے اس سے منع فرمادیا۔
(2)قیامت کے دن اہل دوزخ کو آگ سے عذاب وسزا دی جائے گی اور محسن انسانیت پیارے نبی کریم نے دنیا میں مجرموں کو آگ کی سزا دینے سے منع فرمایاہے کسی جاندار کو جلانے سے منع فرمایا ہے۔حتیٰ کہ سرسبز درختوں پودوں کوبھی جلانے سے منع کیاہے۔لہٰذا آگ سے داغنے کا عمل دوزخ کی آگ کی سزا سے مشابہت رکھتا ہے۔


3 عن انس قال قال رسول اللہ ؐ ان امثل ماتداویتم بہ الحجامۃ والقسط البحری۔
باب الطب بخاری رقم الحدیث5797
ترجمہ: حضرت انسؓ کہتے ہیں رسول اللہ نے فرمایا تمہارے علاج معالجے میں سب سے بہتر علاج حجامہ لگوانا اور قسط البحری سے علاج کرنا ہے۔
4 عن جابر عن النبی ؐ قال ان فی شیء من ادویتکم شفاء ففی شرطۃ محجم او شربۃ عسل او لذعۃ بنار وافق الداء ومااحب ان کتوی۔
بخاری باب الطب رقم الحدیث 5783


ترجمہ: حضرت جابرؓ سے روایت ہے نبی کریم ؐ نے فرمایا تمہاری ادویات (یعنی علاج)میں اگر کوئی شفا بخش دوائی (یعنی علاج)ہے تو وہ حجامہ سے ضرب لگانے میںیا شہد استعمال کرنے میں یا آگ سے داغنے میں اگر یہ داغنا مریض کو موافق ہو(یعنی اسے راس آجائے )لیکن آگ سے داغنا پسند نہیں۔


5 عن جابر بن عبداللہ انہ عاد المقنع ثم قال لا ابرح حتی تحتجم فانی سمعت رسول اللہ ؐ ان فیہ شفاء
بخاری باب الطب رقم الحدیث5797


ترجمہ: حضرت جابرؓ بن عبداللہ نے حضرت مقنعؒ کی تیمارداری کی (وہ بیمار تھے)انہیں فرمایا جب تک تم حجامہ نہیں لگواتے (یاحجامہ کیلئے آمادہ نہیں ہوتے )میں واپس نہیں جاؤں گا۔کیونکہ میں رسول اللہ ؐ سے سنا ہے بے شک اس (حجامہ)میں شفاءہے۔


6 عن عبدالرحمن بن ابی انعم قال دخلت علی ابی ہریرۃ وھو یحتجم فقال لی یا اباالحکم احتجم قال فقلت ما احتجمت قط قال اخبرنی ابوالقاسم ان الحجم افضل ماتداوی بہ الناس۔
رواہ الحاکم وقال صحیح علی شرط الشیخین ووافقہ الذھبی


ترجمہ: حضرت عبدالرحمن بن ابی انعم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔میں ایک مرتبہ حضرت ابوہریرہؓ کے پاس آیا (میں نے دیکھا)وہ حجامہ لگوارہے تھے مجھے کہنے لگے ابوالحکم (عبدالرحمن)! تم بھی حجامہ لگوالو۔تو میں نے جواب دیا میں نے تو کبھی حجامہ نہیں لگوایا حضرت ا بوہریرہؓ نے فرمایا مجھے ابوالقاسم نے بتایا تھا لوگوں کے علاج معالجے میں حجامہ ایک (بہترین)افضل علاج ہے۔


7 عن سمرۃ بن جندب قال دخل اعرابی من بنی فزارۃ علی رسول اللہ ؐ واذا حجام یحجمہ لہ من قرون فشرطہ بشفرۃ فقال ماھذا یا رسول اللہ ؟قال ھذا الحجم وھوخیر ماتداسی بہ الناس۔
رواہ انسائی،مسند احمد رقم الحدیث ۱۲۰۰۹۴سنادہ صحیح


ترجمہ: حضرت سمرہ جندبؓ فرماتے ہیں (ایک مرتبہ)رسول اللہ کے پاس بنی فزارہ قبیلے کا ایک دیہاتی آیا اس وقت ایک حجامہ لگانے والا شخص کو سینگوں سے حجامہ لگا رہاتھا ۔اس نے نشتر سے ضرب لگائی تو وہ دیہاتی حیرت سے بولااے اللہ کے رسول ؐ یہ کیا کررہے ہیں؟ تو آپ نے فرمایا یہ حجامہ ہے جو لوگوں کے طریقہ ہائے علاج میں سب سے بہتر طریقہ علاج ہے۔


8 عن ابی کبشہ الانماریؓ انہ حدثہ ان النبی ؐ کان یحتجم علی ھامتہ وبین کتفیہ ویقول من اھراق منہ ھذہ الدماء فلایضرہ ان لا یتدداوی بشیء لشیء۔
ابن ماجہ رقم الحدیث۱۳۴۷۴سناد ہ حسن


ترجمہ: حضرت ابوکبشہ انماریؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم اپنے سرمبارک پہ اور دونوں کندھوں کے درمیان حجامہ لگوایا کرتے تھے اور آپ فرماتے تھے کہ جس شخص نے حجامہ کے ذریعے اپنا ردی فاسد خون نکلوادیا اسے پھر کوئی خطرہ یا نقصان نہیں ہے۔وہ بھلے بیماری کا کوئی علاج نہ کروائے۔

 

9 عن ابن عباس قال قال نبی اللہ نعم العبد الحجام یذھب بالدم ویخف الصلب ویحلوالبصر وقال ان رسول اللہ حین عرج بہ مامر علی ملآء من الملئکۃ الا قالو علیک بالحجامۃ
(ترمذی حسن غریب رقم الحدیث۲۰۵۳)


ترجمہ: حضرت ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ نبی کریم نے فرمایا حجامہ سے علاج کرنے والا بندہ خوش قسمت ہے جوبدن سے (فاسد گندہ)خون نکلوادیتا ہے جس سے اس کی پشت ہلکی پھلکی ہوجاتی ہے نظر بینائی تیز ہوجاتی ہے (گویا پشت کے کمر کے امراض ریڑھ کے مہروں کے مسائل ،حرام مغز کے مسائل وغیرہ ٹھیک ہوجاتے ہیں)اور فرمایا معراج کی رات نبی کریم فرشتوں کی جس جماعت کے پاس سے گزرتے اس نے آپ ؐ سے کہا کہ آپؐ حجامہ کو لازم اختیار کریں۔


10 عن مالک بن صعصعۃ قال قال رسول اللہ ؐ مامررت لیلۃ اسری بی علی ملامن الملائکۃ الا امرونی بالحجامۃ۔
(طبرانی فی اوسط والکبیر الھیثیمی رجالہ رجال الصحیح)


ترجمہ: حضرت مالک بن صعصہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا شب معراج میر ا گزر فرشتوں کی جس جماعت کے پاس سے ہوا تو انہوں نے مجھے حجامہ اختیار کرنے کاکہا۔
امام ترمذی ؒ نے سنن ترمذی میں جو روایت پیش کی انسؓ کے مطابق امت کو حجامہ اختیار کرنے کے حکم کاذکر ہے۔


11 عن ابن مسعودؓ قال حدث رسول اللہ ؐ عن لیلۃ اسری بہ انہ لم یمر علی ملا من الملا ئکۃ الا امروہ ان مرامتک بالحجامۃ۔
(ترمذی رقم الحدیث۲۰۵۲حسن غریب)


ترجمہ: حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ؐ نے واقعہ معراج کے ضمن میں مجھے ارشاد فرمایا کہ میں (شب معراج)فرشتوں کے جس گروہ کے پاس سے بھی گزرا اس نے مجھے کہا(حضورؐ!)اپنی امت کو حکم دیجئے کہ حجامہ اختیار کریں۔


12 علیکم بالحجامۃ فی جوزۃ القمحدوۃ فانھا تشفی من خمسۃ ادواء ذکر منھا الجذام۔
(طب نبویؐ امام ابن قیم الجوزیہ فصل ۱۷)(جامع الصغیر للسیوطیؒ ،طبرانی)


ترجمہ: تم جوزہ قمحد وہ (فاس الراس)پر حجامہ کرنا ایک اہم لازم سمجھو کیونکہ اس مقام پہ حجامہ کرنے پانچ امراض سے شفاء ملتیہے جن میں ایک جذام (کوڑھ)کا مرض بھی ہے۔


13 علیکم بالحجامۃ فی جوزۃ القمحدوۃ فانھا شفاء من اثنین وسبعین دآء
مجمع للھیثمی۵۷صفحہ ۹۴طبرانی ثقہ روایت کہا الطب النبوی امام ابن قیم الجوزیہؒ فصل ۱۷


ترجمہ: تم گدی کے ابھار پہ حجامہ کا التزام کرو کیونکہ اس مقام پہ (حجامہ کرنے سے)بہتر (۷۲)امراض کو شفاء ہے۔

 

حجامہ کے متفرق مسائل


عورتوں کا حجامہ لگانا اور لگوانا


حجامہ کیونکہ ایک علاج ہے اسلئے دوسرے علاجوں کیطرح مناسب ہے کہ مرد کا مرد اور عورت کا عورت حجامہ کرے۔


حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ام المؤمنین حضرت ام سلمہؓ نے رسول اللہ سے حجامت (حجامہ لگوانے کی اجازت چاہی تو آپ ؐ نے ابو طیبہؓ کو حکم دیا کہ وہ حضرت ام سلمہؓ کو حجامہ لگائے راوی کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ ابوطیبہؓ نے کہا کہ وہ ام المؤمنین ام سلمہؓ کے رضائی بھائی ہیں یا وہ نابالغ تھے ۔
صحیح رواہ احمد 3/53،ابن ماجہ843


حضرت فرات ؒ ،حضرت ام المؤمنین ام سلمہؓ کے آزاد کردہ ایک غلام سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت ام سلمہؓ کو روزے کی حالت میں حجامہ لگواتے دیکھا ہے)ابن ابی شیبہ(
حضرت ام علقمہؓ سے روایت ہے کہ ہم حضرت عائشہؓ کے ہاں حجامہ لگواتی تھیں اور ہم روزے دار ہوتیں ،اور حضرت عائشہؓ کے برادرزادے اور برادرزادیاں بھی حجامہ لگواتے۔آپ رضی اللہ عنہا ان کو نہیں روکتی تھیں۔(التاریخ الکبیر للبخاری(


حضرت ام علقمہؓ کا نام مرجانہ ہے ،نہ روکنے کا مطلب ہے کہ حجامہ سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔
جسے کمزوری نہ ہوتی ہو وہ روزے کی حالت میں بھی لگواسکتا ہے ۔ہاں جو کمزور ہو اور حجامہ لگوانے کی صورت میں روزہ توڑنے کی نوبت آنے کا خدشہ ہو تو اس کیلئے اختیاط کرنا ہی اچھا ہے۔

 

حالتِ احرام میں حجامہ:


حج عمرہ کے وقت احرام باندھنا لازم رکن ہے اور حالت احرام میں خون خرابہ جنگ وجدل وغیرہ کی ممانعت ہے لیکن حجامہ کا بدن انسانی کی صحت کیلئے التزام اتنا ضروری ہے کہ پیارے نبی کریم نے حالت احرام میں بھی حجامہ لگوایا ،چنانچہ صحیح بخاری میں حضرت انس بن مالک سے روایت ہے 

 


14 انہ احتجم وھو محرم فی رأسہ لصداع کان بہ
بخاری کتاب الطب باب الحجامہ علی الراس ۱۰صف ۱۲۸)بحوالہ الطب النبویؐ ازامام ابن القیم الجوزیہؒ فصل ۱۶


ترجمہ: پیارے نبی کریم نے سر میں درد کی وجہ سے حالت احرام میں حجامہ لگوایا ،


15 ان رسول اللہ احتجم وھو محرم علی ظھر القدم من وثی ء کان بہ 


(نسائی باب الحجامہ المحرم علی ظہر القدم جلد ۵ ص ۱۹۴)(بحوالہ :الطب النبوی ازامام ابن القیم الجوزیہ ؒ اندرون حاشیہ مختار احمد ندوی فصل۱۶


ترجمہ: رسول اللہ نے حالت احرام میں حجامہ لگوایا کیونکہ آپ کے پاؤں مبارک یا پشت مبارک میں موچ آگئی تھی۔


روزے کی حالت میں حجامہ کروانا:


روزے کی حالت میں عموماًبھوک پیاس کے شدت سے طبیعت نڈھال ہوجاتی کہے اور بہت سے لوگ لیٹ کر یا سو کر افطاری تک وقت گزارتے ہیں،لیکن حجامہ کی اہمیت فضیلت اور منفعت کا اندازہ کیجئے کہ پیارے نبی کریم نے روزے کی حالت میں بھی پچھنے لگوائے گویا اس سے نہ روزہ ٹوٹتا ہے اور نہ صحت کو نقصان لاحق ہوتا ہے۔


16 عن عبداللہ بن عباسؓ قال ان رسول اللہ احتجم وھو صائم
بخاری باب الحجامہ والقی للصائم۴۵)بحوالہ الطب النبویؐ ازامام ابن القیم الجوزیہؒ فصل ۲۱


ترجمہ: حضرت عبداللہ بن عباسؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ نے روزے کی حالت میں حجامہ کروایا۔


خواتین کا حجامہ اور غیر محرم کا مسئلہ:


خواتین صنفی طور پر نازک مزاج اور نزاکت پسند پیدا کی گئی ہیں اورعموماً خون نکلوانے کے عمل سے خوف زدہ ہوجاتی ہیں۔اور بیشتر خواتین اس عمل کیلئے آمادہ نہیں ہوتیں۔لیکن عمل استفراغ کی یہ صورت حجامہ ان کیلئے عمدہ اور غیر ضرر علاج ہے۔خواتین کا طبعی مزاج عموماً مرطوب ہوہے۔خواتین کا طبعی مزاج عموماً مرطوب ہوتا ہے۔لہذا انہیں حجامہ میں گہرا نشتر لگانے سے احتیاط کرنی چاہئے۔


خواتین کیلئے ایک بڑ ا اور بنیادی مسئلہ حجاب کا بھی ہوتا ہے۔اور غیر محرم کے سامنے حجاب ہٹانا ایک مشکل اور اخلاقیات کے منافی عمل سمجھا جاتا ہے۔بلکہ ہر محرم رشتے کے سامنے بھی بے حجابی ممکن اور جائز نہیں۔سوائے جس قدر شریعت نے اجازت دی ہے۔چنانچہ خاتون حجامہ معالج کی عدم دستیابی کی صورت میں اخلاقیات کے تقاضوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے للّٰہیت اور خوفِ خدا کے ساتھ غیر محرم معالج مرد وزن سے حجامہ لگوانے کی مشروط رخصت ہے اس ضمن میں حدیث شریف ملاحظہ فرمایئے۔


17 عن جابر ان ام سلمۃ استازنت رسول اللہ فی الحجامۃ فامر النبی اباطیبۃ ان یحجمھا قال حسبت انہ قال کان اخاھا من الرضاعۃ اوغلامالم یحتلم۔
مسند احمد رقم الحدیث ۳۵۰۳،ابن ماجہ رقم الحدیث۲۴۸۰


ترجمہ: حضرت جابرؓ سے مروی ہے کہ ام المؤمنین ام سلمہؓ نے رسول اللہ سے حجامہ لگوانے کی اجازت مانگی تو آپ ؐ نے ابوطیبہؓ کو حکم صادر فرمایا کہ وہ ام المؤمنین حضرت ام سلمہؓ کو حجامہ لگائیں راوی کا کہنا ہے کہ میرے خیال میں بقول ابو طیبہؓ وہ ام المؤمنین ام سلمہؓ کے رضاعی (دودھ شریک)بھائی ہیں یا نابالغ ہیں


18 اسی طرح صحیح بخاری کی روایت مطابق غزوات کے موقع پر خواتین صحابیاتؓ غیر محرم زخمی مجاہدین صحابہ اکرام ؓ کی مرہم پٹی کیا کرتی تھی اور ان کی دیکھ بھال کیا کرتی تھی نیز زخمی ور شہید مجاہدینؓ کی خدمت اور دیکھ بھال کے علاوہ مدینہ واپس پہنچاتی تھی،
فتح الباری جلد 10ص111


زہر خورانی کے بعد حجامہ:


صحیح بخاری کی ایک روایت کے مطابق:ایک یہودی عورت نے نبی کریم کو زہر ملاکر گوشت بھیجا اور گوشت بھی جانور کے جسم کے اس حصے سے منتخب کیا جو آپ ؐ کا پسندیدہ تھا۔یعنی دستی کا گوشت چونکہ آپْ کو علم نہیں تھا کہ اس میں زہر ملایاگیا ہے ۔آپ نے تناول فرمالیا۔جب زہر کے اثرات ظاہر ہوئے تو آپ نے اس یہودیہ عورت سے پوچھا کہ تم نے ایسا کیوں کیا؟اس نے جواب دیا میں دیکھنا چاہتی تھی کہ اگر آپ اللہ کے سچے نبی ہیں تو اللہ آپ کو بذریعہ وحی بتا دے گا۔بصورت دیگر میں لوگوں کو آپ سے بچالوں گی۔
ایک روایت میں ہے کہ آپ نے زہر خورانی سے درد کے ازالہ کیلئے گردن سے نیچے کمر کے بالائی حصے پر حجامہ لگوایا ،اور مسند امام احمد 305/1کے مطابق ایک دفعہ دورانِ سفر حالت احرام میں وہی تکلیف دوبارہ اٹھی تو آپ نے پھر اس کا حجامہ سے علاج کیا اور اس زہر خوانی کے بعد آپ تین سال تک زندہ رہے۔


پیارے نبی نے خود جن مقامات پر حجامہ لگوایا:


19 عن انس قال کان رسول اللہ یحتجم فی الاحد عین والکاھل
(سنن ترمذی رقم الحدیث 2052ابو داؤد رقم الحدیث3860ابن ماجہ رقم الحدیث3483مسند احمد 119-192جلدنمبر 3امام حاکم نے اسناد صحیح کہیں اور امام ذہبی نے موافقت کی)بحوالہ الطب نبویؐ ازامام ابن القیم الجوزیہؒ فصل 16


ترجمہ: حضرت انسؓ کہتے ہیں پیارے نبی کریم اپنی گردن مبارک کے پہلو حصوں پر اور گردن سے نیچے حجامہ لگوایا کرتے تھے۔


20 عن انسؓ قال کان رسول اللہ یحتجم ثلاثا واحدۃ علی کاھلہ واثنین علی الاحدعین
سنن ترمذی سنن ابن ماجہ ،بحوالہ الطب النبوی ؐازامام ابن القیم الجوزیہؓ فصل 16


ترجمہ: حضرت انسؓ کہتے ہیں رسول اللہ تین بار حجامہ لگواتے ایک بار اپنے کندھو ں کے درمیان اور دوبار گردن کے پہلوی حصوں میں۔


21 عن علیؓ نزل جبریل علی النبی بحجامۃ الاخد عین والکاھل
ابن ماجہ رقم الحدیث ۳۴۸۲سند ضعیف


ترجمہ: حضرت علیؓ فرماتے ہیں حضرت جبرئیل ؑ گردن کے پہلوی حصے اور کندھوں کے درمیان حجامہ کا حکم لے کر نازل ہوئے۔


22 من حدیث جابرؓ ان النبی احتجم ورکہ من وت ء کا ن بہ
(ابوداؤد رقم الحدیث ۳۸۶۴)رجالہ ثقہ 


ترجمہ: حضرت جابرؓ فرماتے ہیں پیارے نبی کریم کا لہومبارک (Hip)موچ کھا گیا تو آپ نے وہاں حجامہ لگوایا۔

Nabi(s.a.w.)ny jin maqamat pr hijama lagaya.jpg

حجامہ کیلئے تواریخ:


23 عن ابن عباسؓ انہ قال ان خیر ماتحتجمون فیہ یوم سابع عشرۃ او تاسع عشرۃ ویوم احدٰی وعشرین ،
(ترمذی رقم الحدیث ۲۰۵۴)بحوالہ الطب النبویؐ ازامام ابن القیم اجوزیہ ؒ فصل 19(صحیح الجامع رقم الحدیث ۲۰۶۶)


ترجمہ: حضرت ابن عباسؓ مرفوعاً فرماتے ہیں نبی کریم نے فرمایا (ہر قمری ماہ کی )بہترین تاریخ حجامہ لگوانے کیلئے سترہ 17یا انیس 19یا اکیس 21ہے۔


24 عن انسؓ قال کان رسول اللہ یحتجم فی الاخد عین والکاھل وکان یحتجم لسبعۃ عشر وتسعۃ عشر وفی احدیٰ عشرین۔
(سنن ترمذی کتاب الطب رقم الحدیث ۲۰۵۱رجالہ ثقہ )بحوالہ سابقہ 


ترجمہ: حضرت انسؓ سے مروی ہے رسول اللہ اپنی گردن مبارک کے پہلوی حصوں اور کندھوں کے درمیان قمری ماہ
17,19,21
تاریخ کو حجامہ کرواتے تھے 

 


25 من اراد الحجامۃ فلیتحر سبعۃ عشر او تسعۃ عشر او احدی وعشرین لا یتبیغ باحد کم الدم فیقتلہ۔
سنن ابن ماجہ رقم الحدیث ۳۴۸۶ بحوالہ سابقہ


ترجمہ: حضرت انسؓ سے مرفوعاً روایت ہے جو حجامہ کا ارادہ کرے تو انتظار کرے سترہ۔انیس یا اکیس تاریخ کا خون میں جوش نہ آنے دوکہیں اس جان پر نہ بن آئے (یعنی خون جوش ہائی بلڈ پریشر)۔


26 عن ابرہر یرہؓ قال قال رسول اللہ من احتجم لسبع عشرۃ او تسع عشرۃ او احدی وعشرین کانت شفاء من کل داء
سنن ابوداؤد رقم الحدیث۳۸۶۱بحوالہ سابقہ


ترجمہ: حضرت ابوہریرہؓ کہتے ہیں۔رسول اللہ نے فرمایا جو قمری ماہ کی 17,19,21تاریخ کو حجامہ لگوائے گا اسے ہر بیماری سے شفاء ہوجائے گی۔

 

 

 

 

 

حجامہ سے جادو (سحر)کا علاج:


27 عن عبد الرحمن ب بن ابی لیلیٰ ان النبی احتجم علی رأسہ بقرن حین طب قال ابوعبید معنی طب ای سحر
زادلمعادلابن القیم جوزیہؒ جلد ۴ص ۱۲۵


ترجمہ: حضرت عبدالرحمن بن ابر لیلیٰ ؒ سے مروی ہے پیارے نبی کریم پر جب جادو واقع ہواتو آپ نے اپنے سر مبارک میں سینگیاں لگوائیں ابوعبید نے طب کا معنی کیا ہے جادو کیاگیا۔

اس حدیث کی استنادی حیثیت کمزور ہونے کے باوجود امام ابن القیم الجوزیہؒ نے اسے اپنی کتاب زادالمعاد کے علاوہ الطب النبوی فصل ۵۰ میں بھی بیان کا اور الطب النبویؐ میں بہت خوبصورت تبصرہ ان الفاظ میں کیا


اس طریقہ علاج پر کم عقلوں کو اعتراض ہے کہ حجامہ اور جادو کہا ں اور بحیثیت مرض اور دوا ان کا باہمی تعلق کہاں ،اگر اس طریقہ علاج کو بقراط (جیسے فلاسفر)اور شیخ الرئیس (بوعلی سیناؒ )جیسے دانشور طبیب بیان کرتے تو ان کو کوئی اعتراض نہ ہوتا فوراً قبول کرکے ہاتھوں ہاتھ لیتے ۔حالانکہ یہ طریقہ علاج اس عظیم المرتبت ذاتِ گرامی قدر نے اختیار کیا کہ جن کی حکمت وبصیرت اور شان وفضیلت پہ رائی برابر شک نہیں کیا جاسکتا ۔


جادو میں حجامہ سے فائدہ کیونکر ممکن ہے؟


امام ابن القیم ؒ نے درج بالا تبصرہ کے بعد جادو میں حجامہ سے علاج کا فلسفہ یو ں بیان کیا ہے۔
آپ اس بات پر غور کریں کہ سحر جادو سے پیارے نبی کریم کو دماغی قوت میں اس طرح نقصان پہنچا کہ آپ نے جو کام نہیں بھی کیا ہوتا تھا تو اس کے کرنے کاگمان ہوتا تھا۔گویا سحر (جادو)نے آپ کے دماغ میں بطن مقدم پر ہوگیا۔اور دماغ میں خیالات کا مقام یہی بطنِ مقدم ہے اور اس غلبہ کی بناء پر آپ کی طبیعت اصلیہ کا مزاج بدل گیا تھا سحر (جادو)ارواحِ خبیثہ کی تاثیرات کا مرکب ہے جس سے انسان کے مقدم قوائے طبعی متاثر ہوتے ہیں، اور یہ جادو کی اعلیٰ ترین تاثیر ہے بالخصوص آپ پر جو جادو کیا گیا تھا اس کا مقام تاثیر سب سے زیادہ خطرناک تھا اور حجامہ کا ایسے موقع پر اختیار کرنا کہ جب آپ کے افعال کو نقصان پہنچاتھا سب سے اچھاطریقہ علاج ہے اگر اسے دستور وقاعدہ کے مطابق اختیار کیا جائے (الطب النبویؐ،ازامام ابن القیم الجوزیہؒ فصل۵۰)

 

حجامہ کی اجرت (فیس)

 

حجامہ ایک عظیم الشان فن ہے اور اگر صاحب فن اسے بطور کاروبار اختیار کرے تو اس میں کو ئی ممانعت نہیں یا اگر حجامہ کروانے والا حجامہ کرنے والے کو بطور اجرت (فیس)یا ھدیہ وتحفہ کوئی چیز یا نقدی دے تو اسے قبول کرنا بھی جائز ہے یہ ایک فن ہے جس کا تعلق انسانی زندگی کے ساتھ ہے اس میں غلطی مہلک بھی ثابت ہوسکتی ہے مثلاً ہمارے سننے میں آیا ہے کہ لاہور میں کسی خاتون کی دورانِ حجامہ شریان منقطع ہوگئی،اسلئے حجامہ صرف اس لگوانا چاہئے جو طبیبہ کالج کا مستند ہو یا کم ازکم طب کی بنیادی تعلیم ضرور رکھتا ہو تو ایسا صاحب علم وفن اگر اسے بطور کاروبار اختیار کرے تو یہ شرعی متصف ہونا چاہیئے اور آئندہ صفحات میں اوصاف طبیب بیان کئے جائیں گے۔


اس ضمن میں درج ذیل حدیث مبارکہ بطور دلیل موجود ہے۔


28 عن انس انہ سئل عن اجر الحجام فقال رسول اللہ حجمۃ ابوطیبۃواعطا ہ صاعین من طعام وکلم موالیہ فخففو ا عنہ وقال ان امثل ماتد اویتم بہ الحجامۃ 
صحیح البخاری رقم الحدیث ۵۶۹۶


ترجمہ: حضرت انسؓ بن مالک سے حجامہ لگانے والے کی اجرت (کمائی ،فیس)کے بارے میں سوال کیا گیا کیا یہ جائز ہے یا نہیں؟تو انہوں نے جواب دیا کہ رسول اللہ نے ابوطیبہؓ سے حجامہ لگوایا اور آپ نے بطور معاوضہ ابوطیبہؓ کو دو صاع کھانے والی چیز اناج وغیرہ دیئے ااور ابو طیبہؓ کے مالک سے کلام کیا تو انہوں نے ان سے تخفیف کردی اور آپ نے فرمایا تمہارے طریقہ ہائے علاج میں بہترین طریقہ علاج حجامہ لگانا ہے۔دراصل ابوطیبہؓ غلام تھے اور ان کے معاملات کا تعلق براہ راست اسکے مالک ہوتا تھا حتیٰ کہ اسکے کمانے کا نفع اسکا مالک وصول کرتا تھا چنانچہ آپ نے اسکے مالک سے آمدنی کمانے کے بارے میں بات چیت کی تو مالک نے ابوطیبہؓ کی آمدن میں سے اپنے حصے میں تخفیف کردی۔


29 حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے روایت ہے ،
احتجم رسول اللہ واعطی الحجام اجرہ ولو علمہ خبیثا لم یعطہ۔


ترجمہ: رسول اللہ نے حجامہ کروایا اور حجامہ کرنے والے کو اجرت فیس دی اگر یہ اجرت حرام ہوتی تو آپ اس کبھی نہ دیتے۔


اس روایت پر الشیخ صالح الفوزان (حفظہ اللہ )لکھتے ہیں۔

 

اس حدیث میں محل شاھد آپ کا حجام کو اجرت دینا ہے تو نبی کریم نے حجام اجرت پہ طلب کیا اور اسکو اسکی اجرت دی تو یہ اس کے جواز کی دلیل ہے۔
(تسہیل الاحکام،233/234،جلد نمبر ۴،)

 

 

 


حجامہ کیلئے مخصوص تواریخ کا تعین۔


پیارے نبی کریم نے فرمایا جو پچھنے لگانے کا اردہ کرے تو وہ انتظار کرے 17,19,21تاریخ کا اور خون میں جوش نہ آنے دیں کہیں جان پہ نہ بن آئے۔(یعنی ہائی بلڈ پریشر،یعنی فشارالدم قوی نہ ہو،)(ابن ماجہ حدیث 3436)
جو پچھنے کیلئے چاند کی 17,19,21تاریخ اختیار کرگا اسے ہر بیماری سے نجات ملے گی۔(ابوداؤد3861)


درج بالا اول الذکر حدیث کے بعد اما م ابن القیم الجوزیہ ؒ نے لکھا ہے کہ یعنی ایسی بیماریاں جو خون کے غلبے یا حرارت کی زیادتی کی بناء پر ہونگی ان کو شفا ملے گی۔(الطب النبویؐ فصل19)


لیکن یہ یاد رہے کہ ایمر جنسی حالات میں جب مریض شدت تکلیف میں مبتلا ہو تو مہینہ بھر قمری تا یخ کا انتظار کئے بغیر کسی بھی وقت حالات ومزاج کے مطابق حجامہ کیا جاسکتا ہے البتہ معمولی علامات مرض یا عمومی استفراغ کے ارادے سے یا محض سنتِ نبوی کے پیش نظر حجامہ لگوانا مقصود ہو تو قمری تا ریخ کا انتظار افضل واولیٰ ہے۔


جیسا کہ امام ابن حنبل ؒ سے منقول ہے انہیں جب ہیجان ومودی ہو اتو انہوں نے وقت اور تاریخ کا تعین کئے بغیر حجامہ کیا۔


امام ابن القیم الجوزیہ ؒ نے لکھا ہے ان حدیث اور اطباء کے اجماع میں بڑی یکسانیت ہے۔(یعنی قدیم طبی کتب میں بھی حجامہ کیلئے قمری ماہ کی وسطی تواریخ کی ہدایت کی گئی ہے )کہ حجامت کمالِ قمر کے بعد مہینے کی دوسری تصنیف میں ہونی چاہئے یا تیسری چوتھائی میں اسلئے کہ اس زمانہ میں حجامت سے بڑا نفع مقصود ہے یہ حجامت نہ ابتداء ماہ میں ہو نہ نہائت ماہ میں ایمرجنسی کے وقت ہر وقت حجامت جائز ہے خواہ وہ ابتداء ماہ ہو یا آخر میں اس سے نفع ہی ہوگا۔(الطب النبوی ؐ فصل 19)


حجامہ اختیاری کی دس شرائط:


(1) حجامہ دو(2)سال سے کم اور 70سال سے زائد عمر میں نہیں کرنا چاہئے۔ہمارے خیال میں 5سال سے کم عمر میں حجامہ نہیں کرنا چاہئے۔
(2) جس شخص کا جسم کثرت تحلیل کے باعث ڈھیلا ہوگیا ہو اسے حجامہ نہیں کرنا چاہئے۔

(3) حجامہ اس شخص کا کیا جائے جس کا خون رقیق (پتلا ہو)(خون گاڑھا ہونے کی صورت میں چند دن متعلقہ خلط کا نضج دیا جائے پھر قدرے گہرے پچھنے لگائے جائیں نضج کا طریقہ اور ادویات آگے بیان کی جائیں گی)
(4) حجامہ سے پہلے مقوی معدہ اور دافع مواد مشروبات استعمال کروائے جائیں (شہد کا شربت عمدہ ہے)
(5) حجامہ موسم گرما میں کیا جائے کیونکہ اس موسم میں حجامت کیلئے مادوں کا اخراج اور دفیعہ آسان ہوتا ہے جسکی وجہ یہ ہے کہ اس موسم میں مادے رقیق ہوتے ہیں اور حرارت کے باعث ان کا میلان بیرونی جسم کی جانب ہوتا ہے۔اگر موسم سرما میں حرارت مقصود ہو تو ناری حجامہ کیا جائے یا جسم کو پہلے مالش،مساج یا ورزش کے ذریعے حرارت دی جائے اور ماحول بھی گرم رکھا جائے۔
(6) جماع کے بعد حجامہ نہ کیا جائے۔
(7) سخت محنت مشقت ،ریاضت کے بعد حجامہ نہ کیا جائے اس سے تحلیل مادہ کی کثرت اور ضعفِ قوت کا اندیشہ ہوتا ہے۔البتہ اگر خون غلیظ ہوتو ایسی حالت میں بھی حجامہ کیا جاسکتا ہے۔
(8) حمام کے بعد حجامہ نہ کیا جائے سوائے ان کے جن کا خون غلیظ ہو کیونکہ حمام کے بعد جلد زیادہ غلیظ ہوجاتی ہے ایسی حالت میں گہرا پچھنا لگانا پڑیگا جس سے درد میں زیادتی اور قوت میں کمی واقع ہوتی ہے۔
(9) حجامہ قمری مہینے کی درمیانی تواریخ میں لگایا جائے کیونکہ اس وقت اخلا ط میں جوش اور ہیجان ہوتا ہے۔
(10) حجامہ کیلئے دوپہر کا وقت مقر ر کیا جائے کیونکہ یہ بدن کے اوقات میں معتدل ترین وقت ہے۔


حجامہ میں خون کی مقدار:


حجامہ میں خون کی مقدار اخراج کے حوالے سے عموماً لوگوں میں ایک غلط تاثر پایا جاتا ہے۔کہ سینگی یاکپ کو بار بار لگایا جائے اور خون کی بھر بھر کر مقدار نکالی جائے یہاں تک کہ خون نکلنا بند ہوجائے اور پانی نمودار ہوجائے یہ تاثر یا خیال قطعی درست نہیں۔یادرکھیں حجامہ کی کامیابی یہ ہے کہ خون سے C.P.S.یعنی فاسد مواد بھر پور مقدار میں خارج ہو اور ایسا اسی وقت ممکن ہے جب مزاج اور مرض کی درست تشخیص کرکے حجامہ کا درست پوائنٹ منتخب کیا جائے اور اس صورت میں بہت سے مقامات کی بجائے ایک یا دو مقام پر بھی حجامہ کافی ہوتا ہے۔

 

حجامہ معالج کے اوصاف(Qualities of Cupping Therapist)


(1) حجامہ معالج اپنے فن اور مریض کے ساتھ مخلص ہو۔
(2) دل میں خوف خدا ،نظر میں حیاء اور کردار میں پختگی ہو۔
(3) مریض کے طبعی بدنی مزاج ،غالب خلط اور مرض کی کیفیت کو سمجھتا ہو۔
(4) مرض کے چاروں درجات یا ادوار کو خوب جانتا اور سمجھتا ہو یعنی ابتداء ،تزائد ،انتہا اورانحطاط ،(1)ابتداء (مرض کا ابتدائی دور)(2)تزائد(وہ دور جس میں مرض زیادہ ہوجاتا ہے بڑھ جاتا ہے)(3)انتہاء(وہ دور جس میں مرض انتہا کو پہنچ جاتا ہے شدت اختیا ر کرلیتا ہے)(4)انحطاط (یعنی کم ہونا نیچے اترنا ،وہ دور جس میں مادہ مرض پر قوت بدنیہ غالب آتی ہے مرض ختم ہونے لگتا ہے)۔
(5) حجامہ میں نشتر لگانے کیلئے پوائنٹ (مقام)کا درست انتخاب کرسکتا ہو۔اگر مرض اور پوائنٹ کی سمجھ نہ آتی ہوتو مریض کو زخم دینے کے بجائے صاف انکار کردے اور اپنے سینئیر کے پاس بھیج دے اور سینئر زسے مشاورت کرے اور رہنمائی لے۔
(6) حجامہ معالج ظاہر ی اور جسمانی طور پر معتدل مزاج ہونا چاہیے۔
(7) خود بھی نماز پنجگانہ کی پابندی کرے اور مریضوں کو بھی اس کا حکم دے اور کوشش کرے کہ نماز تہجد کا پابند بنے۔یا اپنے مذہب کے مطابق اپنی عبادت کرے۔
(8) روزانہ بلاناغہ قرآن کی تلاوت اور طبی کتب کا مطالعہ ضرورکرے۔
(9) فیس میں غریب مستحق لوگوں سے اللہ تعالیٰ کی رضا کیلئے تعاون کرے۔
(10) مریض کے ساتھ خیر خواہی ،شفقت ،نرمی اور خوش اخلاقی سے پیش آئے۔
(11) مریضوں کو دیئے گئے وقت پہ حجامہ معالج اپنے کلینک یاسنٹر سے غیر حاضر نہ ہو۔
(12) ہر مریض کا فشار الدم (بلڈپریشر)وزن ،ٹمپریچر(بدن کا درجہ حرارت)عمر،عادات کی معلومات ضرور حاصل کرے 
اور موسم کا خیال ضرور رکھے۔

(13) صفائی ایمان کا جزو ہے لہذااپنے خیالات لباس،کلینک اور اوزار پاکیزہ رکھے۔
(14) مریضوں کیلئے اخلاص سے اللہ تعالیٰ کے حضور دعائیں اور آہ وزاری کرنے والا ہو۔
(15) مریض کو صدقہ وخیرات ،توبہ واستغفار ،فکر آخرت اور حوصلہ مندی کا درس دے۔


حجامہ میں استعمال ہونے والا سامان:


اگر کوئی سینگ سے حجامہ کرتا ہے یا شیشے کے کپ سے تو اسے سینگ یا کپ کو جسم سے چپکانے کیلئے ماچس (دیاسلائی)اور ٹشو پیپر یا روئی جلانے کیلئے چاہیے۔ورنہ آج کل ویکیوم مشین یاگن کے ساتھ پلاسٹک کے کپ بازار میں دستیاپ ہیں جن کااستعمال آسان ہے لیکن ان دونوں کے فوائد میں فرق ہے جو حجامہ کی اقسام میں بیان کردیا گیا۔


(1) کپ یا سینگ یا گلاس (2) ٹشوپیپر (3) دستانے (سرجیکل گلوز) (4) نشتر ،بلیڈ یا سرجیکل بلیڈ جس کی دھار تیز ہوتی ہے۔ہمارے تجربے میں عام بلیڈ اصل کمپنی کا سب سے بہترین کام کرتا ہے ایک بلیڈ صرف ایک بار استعمال کرکے ضائع کردیں۔(5) ٹشوپیپر ز ،ایک گن کا استعمال مختلف مریضوں پہ کیا جاسکتا ہے۔اس سے جراثیم یا آلودگی کا قطعی خطرہ نہیں اور بعض لوگ ہر مریض کیلئے جراثیم کے خدشے کے پیش نظر الگ الگ گن یا اسی کی مخصوص گن کے استعمال پر زور دیتے ہیں جو ایک تکلف کے سوا کچھ نہیں۔یہ سوچ بھی مفاد پرستی کی بنیاد پر پھیلائے گئے عالمی استعماری اور سرمایہ کارانہ ذہنیت کے باطل نظریہ جراثیم کا نتیجہ ہے ۔جنہوں نے محض اپنے اوزار اور مختلف سامان کی سرکولیشن اور مانگ بڑھانے کیلئے ہر چیز میں جراثیم اور انفیکشن کا ہوا کھڑا کیا ورنہ قدیم اطباء تو حجامہ میں اپنے منہ سے سینگ چوسا کرتے تھے،یہاں ہمارا یہ موضوع نہیں ورنہ مد لل مفصل گفتگو کی جاسکتی ہے۔یہ سوچ شرعی ،طبی ،اخلاقی ،معاشرتی اور فطری لحاظ سے غلط ہے۔


(6)سپرٹ میتھلیٹڈ یا ڈیٹول ملا آپ مصفی جو نشتر لگانے سے پہلے جلد سے آلودگی یا گندگی کو صاف کرنے کیلئے استعمال کیا جائے۔
(7)شہد یا کوئی دوا جو نشتر استعما ل کرنے کے بعد اندمال زخم کیلئے استعمال کیا جائے۔
(8) پٹی یا کوئی سرجیکل گاز جو زخم پہ رکھ کر ٹیپ سے چپکا دیا جائے۔
(9) سیفٹی ریزر یا استرا یا ٹرمرمشین جو بال صاف کرنے کیلئے استعمال کیا جائے۔

 

حجامہ لگانے کا طریقہ:


1
۔ ہاتھوں پہ دستا نے چڑھالیں اور حجامہ کے مقام پہ جلد کو سپرٹ یا ڈیٹول ملے آب مصفیٰ سے صاف کریں بال ہو تو پہلے انہیں جلد سے صاف کرلیں ۔کیونکہ بالوں پر گلاس یا کپ وغیرہ نہیں چپکتے پھر ویکیوم مشین سے کپ کو جلد پر چپکادیں اگر گلاس یا سینگی استعمال کی جارہی ہے یا عرف عام میں پیالہ لگانا کہتے ہیں تو ٹشو پیپر کا ایک چھوٹا ٹکڑا جلا کر استعمال کی جارہی ہے یا عرف عام میں پیالہ لگانا کہتے ہیں تو ٹشو پیپر کا ایک چھوٹا کا ایک چھوٹا ٹکڑا جلا کر گلاس میں ڈال دیں اور گلاس کو جلد پر حجامہ کے مقام پر فوراً رکھ دیں اور ہاتھ سے دباکر رکھیں اس عمل سے گلاس کے اندر خلا میں موجود آکسیجن آگ جلنے سے خرچ ہوجائے گی اور کاربن جمع ہوجائے گی،اور بیرونی ہو ا کے دباؤ سے گلاس جلد سے چپک جائیگا اور گلاس کے اندر جلد بھر آئے گی اور زیر جلد خون ابھر کر اوپر سطح پر جمع ہوجائے گا۔


2۔ مرض یا مادے کی نوعیت اور جلد کی کیفیت (سخت یا نرم)کے مطابق 5سے10منٹ تک گلاس یا کپ کو ایسے ہی چپکا رہنے دیں پھر گلاس کی صورت میں انگلی سے جلد کو دباکر ہوا خارج کریں گلاس اتر جائیگا اور ویکیوم مشین سے لگائے گئے کپ کی پن کو اوپر کھینچیں اندر سے ہوا خارج ہوجائے گی اور کپ اتر جائے گا۔


3۔ جلد کے ابھر ے ہوئے حصے پر نشتر سے چیرے لگادیں چیرے لگاتے ہوئے نسوں اور رگوں کو نشتر کی دھار سے بچائیں۔(چیروں کی گہرائی ،تعداد اور درمیانی فاصلہ اپنے مقام پہ بیان کردیا گیا ہے۔


4۔ خون نکل کرکپ یا گلاس میں رسنے لگے گا ،کپ کی صورت میں 5,7منٹ بعد پن کھینچ کر کپ کو ڈھیلا کرکے دوبارہ ویکیوم مشین سے اس کی گرفت مضبوط کردیں۔سود اوی خلط کے غلبے کی صورت میں یا مادے کی صلابت اور غلظت (سختی اور گاڑھا پن)کی صورت میں یہ عمل وقفے وقفے سے تین چار مرتبہ دھرائیں تاکہ فاسد ردی مواد کا خوب اخراج ہو۔ خون گلاس یا کپ میں رِکرمنجمد ہوجائے گا پھر اسے احتیاط سے (درج بالا بتائے گئے طریقے کے مطابق)اتاردیں اورزخم کو سپرٹ یا پائیوڈین سے صاف کرکے اس پر شہد یا مرہم لگاکر سرجیکل گاز رکھ دیں۔


5۔ حجامہ سے پہلے جلد کی قدر ے مالش (مساج )کریں۔
6۔ حجامہ خالی پیٹ لگانا ہی مفید ہے۔
7۔ حجامہ لگانے والا خون محفوظ طریقے پر ضائع کریں یا زمین میں دبادیں۔(الحدیث)

8۔ حجامہ لگاتے ہوئے خود بھی درود پاک اور آیۃ الکرسی کا ورد کریں اور مریض کو بھی اس کی تلقین کریں۔
9۔ صفائی ایمان کا جزو ہے (الحدیث)حجامہ لگاتے ہوئے حفظان صحت کے اصولوں کا خیال رکھا جائے۔
10۔ حجامہ لگانے کے بعد مریض کو شہد والا پانی یا کوئی میٹھا مشروب یا تازہ جوس پلانا مفید ہے۔
11۔ حجامہ کے دوران اگر مریض کو چکر آنے لگیں یا دل گھبرانے یا ڈوبنے لگے یا غشی کی کیفیت طاری ہو تو فوراًمریض سے حجامہ آلات الگ کرکے اسے لٹا دیں اور میٹھا مشروب پلائیں۔
12۔ خمیر ہ ابریشم حکیم ارشد والا ،دواء المسک معتدل جو ا ہردار مفرح شیخ الرئیس خمیرہ گاؤ زبان عنبری جواہر دار وغیرہ کا استعمال حجامہ کے بعد کروانا مفید ہے ۔نیز خفقان یا غشی کی صورت میں انکا استعمال بہت مفید ہے ان ادویات کا شمار مفرحات ،مقویات اور جواہرات میں ہوتا ہے ۔بازار سے مختلف طبی دواساز اداروں کی تیار کردہ دستیاب ہیں۔ 

 

 


مختلف مقامات پر حجامہ کے فوائد


یا فوخ /ھامہ:


یہ حجامہ چہرے کا میلا پن ،حواس کی کمزوری ،جادو کا اثر (بالخصوص جس جادو میں دماغی صلاحیت میں فساد اور بگاڑ پیدا ہو)امراض چشم ،حیض کی رکاوٹ ،ورم رحم عقل کی کمی ،نفسیاتی مسائل میں مفید ہے۔


چائینیز ماہرین اسے(Hundred Mailings)یعنی 100بیماریوں کے علاج کا مرکز بھی کہتے ہیں۔ان کا کہنا ہے صحت مندی کیلئے مثبت (پازیٹو (Yin)اور منفی (نیگیٹو)(Yang)قوتوں میں توازن ضروری ہے اور یا فوخ کا مقام منفی قوتوں (Yong)کا سرچشمہ مرکز ہے۔

جبہ :


پیشانی پہ حجامہ امراض چشم ،سردرد ،بلغمی انجماد ،چکر آنا ،نفسیاتی مسائل ،مالیخو لیا،عقل کی کمی میں مفید ہے۔

 

نقرہ:


یہ حجامہ آشوب چشم کی درد،دموی مادے کے غلبے سے سر اور پپوٹوں کی گرانی ،کلف (جلدی مرض ،جھائیں ،سیاہ داغ،چہرے پشت اور ہاتھوں پہ سیاہیاں)برش (جھائیں چھائیں چھوٹے چھوٹے سیاہ یا سرخ رنگ کے داغ دھبے یا نقطے)نمش،اسے ہندی میں لہسن کہتے ہیں(گول سیاہ یا سیاہ سرخی مائل چٹاخ جو پشت یا چہرے پہ بنتے ہیں )سبل (غباری پردہ یا جالا،عروقِ غریبہ کا سرخ اورباریک پردہ سا بن کر آنکھ پر چھا جاتا ہے جس سے آنکھ میں خارش ہوتی ہے)سلاق(باہمنی ،پپوٹا ،سرخ غلیظ ہوجانا)میں مفید ہے۔


قمحدوہ:


گدی کی ھڈی پہ حجامہ دماغی خلل ،دموی دوار میں مفید ہے لیکن دموی مزاج والوں کو دیر سے فائدہ ہوتا ہے۔کیونکہ اس مادے کا استفراغ ہوتا ہے جو حرارت غریریہ پہ چھا یا ہوتا ہے۔ایک حدیث کے مطابق گدی کے مقام پہ حجامہ 72بیماریوں کی شفاء ہے۔

 

 


اخدعین:


پہ حجامہ کے فوائد درج ذیل ہیں۔داڑھ اور زبان کا درد،مسوڑھوں کا ورم،کانوں کا ورم،آشوب چشم،ان اورام کی کثرت سے رعشہ بھی ہوجاتا ہے۔اور یہ مقامات سفید ہو جاتے ہیں۔

ذقن :
اس پہ حجامہ کے درج ذیل فوائد ہیں ۔منہ کی بدبو،زبان کی ورم ،منہ کی پھنسیاں (قلاع الفم)اور ورم لوزتین (ٹانسلز)چہرے پہ دانے پھنسیاں۔


تشریط:


اس پہ حجامہ کرنے سے صداع حارد موی اور غلبہ خون کے باعث ہونے والی سرکی گرانی کو مفید ہے (صداع حار دموی)ایسا سردرد جو گرم مادوں کے غلبے سے ہو اس میں آنکھیں قدرے سرخ ہونگی،پیشاب میں گہری زردی غالب ہوگی،پاخانہ ناریرنگ کا ہوگا۔گرم موسم گرم کام (آگ کی بھٹی وغیرہ کا کام)سورج کی تپش سے شدید سردرد ہوگا اور سر میں حِدّت کا احساس ہوگا۔

 


کاھل:


اس پہ حجامہ ،حلق میں درد (خصوصاًفصد یا مسہل وغیرہ کے تنقیہ کے بعد اگر درد لاحق ہو)خناق دموی ،ضیق النفس (دمہ)زہریلے حشرات کے کاٹنے کی علامات ،زہر خورانی اور خوردنی ادویات کی مضر علامات،حیض کا زیادہ یادرد سے آنا،ایڑھی کا درد میں مفید ہے ۔اس مقام کا حجامہ ہر مرض میں جائز ہے۔

 

 

 


ترقوہ:


اسکا حجامہ دردشقیقہ،کندھوں کا درد،اور بوجھ ،بازو کے جوڑمیں درد،اور اعصابی دردوں میں مفید ہے۔

 

 


منکب:


اس پہ بائیں جانب حجامہ وجع الطحال (تلی Spleenکا درد)چوتھیا کا لبخار (ہر چاردن بعد بخار کا حملہ)میں مفید ہے۔


منگب:


اس پہ دائیں جانب حجامہ جگر کی گرمی ،وجع الکبدحار ،(جگر میں حرارتل صفراء کی زیادتی سے ہونے والی درد)میں مفید ہے۔

 

 


ناغض یاکتف:


اس پہ حجامہ سینے کی درد،بازوؤں میں درد انجماد بلغم سے سانس کی دقت. ،قبض اور گیس میں مفید ہے،نیز جگر کی گرمی ،جگر میں صفراء کی زیادتی سے درد میں دائیں جانب ناغض پہ اور تلی کے درد میں بائیں جانب ناغض پہ حجامہ مفید ہے۔


ہم نے آئندہ صفحات میں اعصاب کے باب میں بلحاظ فعل اور بلحاظ ابتداء یا محلِ وقوع اعصاب کے 31جوڑوں کا ذکر دیا ہے ،جن میں عنقیہ ،ظہریہ ،قطنیہ ،عجزیہ،عصعص کا بیان ہے ہم نے ا.نہی کے ناموں سے حجامہ کے مقامات کو موسوم کیا ہے۔اور یاد رہے پورے جسم میں حجامہ کے یہی سب سے اہم مقامات ہیں لاگر کوئی حجامہ معالج ان مقامات کے حجامہ پہ دسترس حاصل کرلیتا ہے وہ ایک کامیاب حجا مہ معالج کہلا سکتا ہے۔اب ہم ان مقامات پہ حجامہ کے فوائد درج کردیتے ہیں۔

 

عنقیہ(سروائیکلCervical:)


اس پہ حجامہ گدی ،چہرے ،ہنسلی ،کندھے اور سینے کی جلد اور عضلات نیز کھوپڑی کی جلد،کلائی وبازو کے اندرونی ودرمیانی عضلات سے مخصوص ہے ،سروائیکل نر وز انہی اعضاء کو حس وحرکت پہنچاتے ہیں لہذا ان اعضاء کی حس وحرکت متاثر. ہوتو اس عنقیہ کے مقام کا حجامہ مفید رہے گا۔

ظہریہ(ڈارسلDorsal:)


ڈارسل نروز سینے وپیٹ کے عضلات اور جلد میں حس وحرکت پیدا کرتے ہیں ان کی خرابی سے ہی پیٹ و سینے میں درد ہوتا ہے۔اور قبض کی شکایت ہوتی ہے لہٰذا سینے و پیٹ کے عضلات اور جلد میں حس وحرکت متاثر ہو یا ان میں درد ہو اور قبض کی شکایت ہو تو ظہر یہ کے مقام پہ حجامہ لگوائیں۔


قطنیہ(لمبر Lumber:)


90
فیصد مہروں کی درد،کمردرد اور دیگر تکالیف کا یہی مرکز ہے کیونکہ یہی موومنٹ کرتے ہیں ۔لہٰذا کمر،مہروں اور حرام مغز کی تکالیف کے علاوہ رانوں ،پنڈلیوں اور ایڑھی کی درد میں اس مقام کا حجامہ بالخصوص اہم ہے۔


عجزیہ۔عصعص:


اس پر حجامہ بیٹھک کے گرنے سے آنے والی درد ،بواسیر،مقعد کی درد میں مفید ہے۔


خاصرہ،ورک :


اس پر حجامہ بواسیر خونی وبادی ،عروق سروں اور رحم سے خون کے اخراج ،ورمِ مقعد،نزف الدم کلوی (گردوں سے خون آنا)اور حرقت بول(پیشاب کی جلن)میں ان مقامات کے دونوں جانب حجامہ کیا جاتا ہے۔


مقعد :


اس پر حجامہ مقعد،بواسیر ،وجع الامعاء (آنتوں میں درد)اور احتباسِ طمث (حیض کی بندش )میں مفید ہے لیکن یہ حجامہ بدنی تنقیہ کے بعد فائدہ کرتا ہے۔


فخذ:


اس پر حجامہ فوطوں کا درد ،پنڈلیوں کے متعفن زخم،ورم رحم ،عروقی سروں سے جریانِ خون میں فخذ مقد م(رانوں کے سامنے کی طرف)مفید ہے جبکہ ان امراض کے ساتھ اگر بواسیر اور شقاق المقعد (مقعد کا پھٹ جانا)بھی لاحق تو فخذ مؤخر (رانوں کے پیچھے کی جانب)حجامہ مفید ہے۔


رکبتین:


اس پر حجامہ گھٹنوں میں درد اور ورم ،وجع المفاصل میں مفید ہے ۔اس کا طریقہ یہ ہوگا کہ مریض پاؤں زمین پہ بالکل سیدھا رکھے اور گھٹنے کے جوڑ کے قریب عظم الفخذ (گھٹنے کے جوڑ کی ھڈی)کے کنارے پہ حجامہ کیا جائے۔


ساقین :


اس پر حجامہ خناق کی ابتدائی حالت ،گلے کے درد،نملہ ساق (پنڈلی پہ گول چھوٹی باہم ملی ہوئی پھنسیاں)میں مفید ہے نیز کہیں سے بھی جریان خون مثلاً ناک ،رحم وغیرہ کہیں سے بھی بہتا ہوا خون پنڈلی پہ حجامہ سے رک جاتا ہے۔
ہم نے یہاں چند مقامات بیان کردئیے باقی مقامات انشاء اللہ تصاویر کے ذریعے باالتفصیل واضح کئے جائیں گے۔

 

 

hajama ki ahmiat images1.jpg

hajama ki ahmiat images2.jpg

 

hajama ki ahmiat images.jpg

 

 

 

حجامہ کے سائنسی فوائد
SCIENTIFIC BENEFITS OF AL-HIJAMA

(1) حجامہ صحت کا ضامن ہے اور بیماریوں روکنے کابہترین ذریعہ ہے حجامہ اپنے اندر (ANTI-AGING)اثرات رکھتا ہے۔


(2) حجامہ بدن سے فالتوں بڑے مرکبات MACROMOLECULESخارج کرتا ہے۔مثلاًRAFACTORS & AUTO-ANTIBODIESAاور اسکا یہ عمل گردے سے اخراج کے مشابہ ہے۔


(3) خون سے زہر یلا موادENDOGNOUS & EXOGENOUS TOXINSخارج کرتا ہے ۔


(4) حجامہ درد کے امراض میں بے حد مفید ہے حجامہ کے ذریعے درد پیداکرنے والے اجزاء مثلاًCYTOKINES اورSUBSTANCEوغیرہ جسم سے خارج ہوتے ہیں نیز حجامہ کے درد کے خارجی راستوں PINGATIS
IN THE CNS
کو بند کردیتا ہے۔


(5) حجامہ خون کا دورانیہ CIRCULAIONبہتر کرتا ہے اور خون کی نالیوں کو رواں کردیتا ہے اور بلڈ پریشر نارمل کردیتا ہے


(6) حجامہ سوزش کو کم کرتا ہے اور مریض بہت بہترہوجاتے ہیں۔دمہ کے مریضوں کے خون میں EOSINOPHIL کالیول نارمل پر آجاتا ہے حجامہ سگریٹ نوشی کرنے والوں کے خون میں OXYGENآکسیجن کا لیول بڑھاتاہے


(7) حجامہ جگر کے افعال کو بہتر کرتا ہے ،ہیپاٹائٹس HEPATITESمیں بہت بہتر نتائج سامنے آتے ہیں حجامہ جگر کے وائرس VIRAL LOADکوکم کرتا ہے حجامہ زائد فولاد IRONلیول کو کم کرتا ہے خون صاف کرتا ہے حجامہ دوائیوں کے جگر کو نقصان پہنچانے والے سائیڈایفیکٹ کو ختم کردیتا ہے حجامہ خون میں INTERFEROکا لیول بڑھادیتا ہے۔

 

(8) حجامہ نروس سسٹمPERIPHERAL NERVOUS SYSTEMکو اعتدال میں لاکر دل میں دھڑکن کی رفتار نارمل کرتا ہے۔یہ بلڈ پریشر کو نارمل کرتاہے آکسیجن کی سپلائی بڑھاتا ہے۔
IMPROVES MICROCIRCULATION
اور فالج کے مریضوں کے پٹھوں کی گویا فزیوتھراپی PHYSIOTHERAPY کرتا ہے( لیکن یہ فزیوتھراپی کاعین متبادل نہیں ہے

 

(9) حجامہ گردے پر ادویات کے نقصانات کو زائل کرتا ہے خون کی صفائی ،زائد اور فاسد مواد کے اخراج کی بدولت گردوں کا لوڈ کم کردیتاہے۔


(10) حجامہ سے اعصابی امراض بہتر ،بلڈپریشر نارمل ،سردردختم اور درد کا نام ونشان مٹ جاتا ہے اور خون میں NEURTRANSMITTERS & ENDOGENOUS OPIODS پیدا ہوتے ہیں یہ سب ملکر فاسد مواد CPSکا اخراج اعصابی امراض کو جڑ سے اکھیڑ دیتے ہیں۔


(11) چونکہ حجامہ خون کو مضر اجزاء سے پاک کردیتا ہے اس لئے ادویات جسم میں بہتر نتائج دیتی ہیں اور یہ ادویات کے سائیڈ ایفیکٹ کو بھی ختم کردیتا ہے۔


(12) حجامہ قوت مدافعت بڑھاتا ہے قوت مدافعت کو کم کرنے والے عناصرlgEIL-4.IL-2,CD8کو کم کرتا ہے اورقوت مدافعت بڑھانے والے عناصر مثلاًNITRIC OXIDE, IL-2CD4+,lgG,IgAکو بڑھاتا ہے۔


(13) حجامہ حسن بڑھانے کیلئے بھی کیا جارہا ہے۔حجامہ ٹیشوز کے درمیان غیر ضروری ملاپ TISSUE ADHESIONکو توڑ تا ہے سوزش ختم کرتا ہے۔اور جلد کی خون کی سپلائی بڑھاکر حسن میں اضافے کا سبب بنتا ہے۔


(14) حجامہ شوگر کے مریضوں کے خون میں بڑھتے ہوئے LIPIDSاور FERRITINجن کا تعلق جدید ریسرچ کے مطابق ذیابیطس کے ساتھ ہیں کو کم کرتا ہے۔ شوگر کے مریضوں کے خون کی خراب کیمسٹر ی HIGH ADVANCED GLUCATION,CHOLSTROL,LDL,END PRODUCTS
کو درست اورHBA Icکو نارمل کرتا ہے۔


(15) رومائیڈ آرتھراٹس (جوڑوں کامرض)میں حجامہ خون SERUMسےAUTOANTIBODIESخون میں سوزش پیدا کرنے والے عناصر جن کاتعلق ان بیماریوں سے ہے۔جن میں مریض کا اپنا دفاعی نظام اس کے خود خلاف ہوجائے یعنی SIL-2Rکو خارج کرتا ہے۔ESRاور CRPکے لیول نارمل کردیتا ہے۔


(16) حجامہ خون میں NOپیدا کرتا ہےNITRIC OXIDEٰ NOیہ خون کی شریانیں کھولتا DILATEہے اس کی مثال دل کے مریضوں کی ایک دوائی ANGESIDکی طرح ہے جو کہ دل کی خون کی شریانیں پیدا کرتا ہے۔


(17) حجامہ ہارمونز کے امراض میں بڑھے ہوئے ہارمونوں کو کم کرتا ہے مثلاًESTROOGENکالیول حد سے بڑھ جائے تو عورت بانجھ ہوجاتی ہے۔


(18) حجامہ الرجی کے امراض ٹھیک کرتا ہے حجامہ خون سے الرجی کے عناصر IL-2d-C3 lgEنکال دیتا ہے۔


(19) حجامہ ٹشو کی سوزش CELLULITISمیں بیکٹیریا کے جراثیم خارج کردیتا ہے اور جراثیم کو مارنے والے عناصر
ANTIMECROBIAL PEPTIDES
پیدا کرتا ہے۔


(20) حجامہ کینسر کے امراض میں بھی مفید ہے قدرتی مدافعت بڑھاتا ہے ادویات کا اثر تیز کردیتا ہے اور کینسر پیدا کرنے والے عناصرGROWTH FACTORS OF CANCER CELLSکو خارج کردیتا ہے۔
DECREADES HIGH LDL,CHOLESTROL & URIC ACID


(21) حجامہ زائد ہارمونز خارج کرتا ہے ااور بلڈ کیمسٹری کو درست کرتا ہے بذریعہ فاسد مواد CPSاورزائد پانیEXCESS FLUIاخراج سے یوں جسم کو نظام کو متوازن کردیتا ہے۔


(22) حجامہ قوت مدافعت بڑھاکر خون کی گردش بہتر کرکے فاسد مواد خارج کرکے دردوں کو ختم کرکے اور جادو کے اثر کو ختم کرکے مریض کو جسمانی ذہنی ،روحانی صحت سے ہمکنار کرتا ہے۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

HAJAMA BLOOD VS VENOUS BLOOD
حجامہ خون اور وین خون کا فرق:


حجامہ خون اور رگ کے خون VENOUS BLOODمیں فرق ہوتا ہے۔حجامہ خون میں خون کے تمام سیلز BLOOD CELLS یعنی RBC,WBC,PLATETETS,MONOCYTESکی مقدار رگ دینے والے خون سے بہت کم ہوتی ہے حجامہ خون میں ہیموگلوبن Hbبہت کم ہوتی ہے،اسلئے حجامہ کرنے کے بعد عموماً کمزوری محسوس نہیں ہوتی۔جیسا کہ عموماً خون کا عطیہ دینے کے بعد ہوتی ہے۔
NITRIC OXIDE PRODUCTION
حجامہ کے کٹ لگا نے سے جلد سے نائیزک اکسائیڈ NOخارج ہوتا ہے۔جس خون کی گردش تیز ہوتی ہے۔VASODILAIONٰیہ زخم کو جلدی میں بھی کرتا ہے۔قوت مدافعت بڑھاتا ہے۔IMMUNOMODULAIONکینسر کم کرتا ہے۔ANTI NEOPLASTECجراثیم کش ANTI-MICROBIALہے اور خون کی نئی شریانیں ANGIOGENESISبھی پیدا کرتا ہے۔
AL-HIJAMAH ENAHANCES EXCRETORY SKIN FUNCTIONS
حجامہ جلد کاقدرتی اخراجی عمل Excretoryبڑھاتا ہے۔انسانی جلد جسم کا سب سے بڑا عضو ORGANہے جلد کی قدرتی صلاحیت ہوتی ہے۔کہ جسم سے فاسد مواد ،کیمیکل ادویات وغیرہ بذریعہ پسینہ SWEAT GLANDESخارج کردیتا ہے۔حجامہ کے کٹ سے جلد پر مسام اور سوراخ کھل جاتے ہیں ،اور فاسد مواد خاGLANDESخارج کردیتا ہے۔حجامہ کے کٹ سے جلد پر مسام اور سوراخ کھل جاتے ہیں ،اور فاسد مواد خارج ہوجاتے والی ہیں جلد کے خون کا دورانیہ 250ml/minعموماً ہوتاہے۔ حجامہ کی وجہ سے خون کی یہ رفتار تیزہوجاتی ہے ،اور خون زیادہ مقدار میں فلٹر ہوتا ہے یوں فاسد مواد زیادہ مقدار ہیں خارج ہوجاتے ہیں۔


IMPORTANCE OF WET CUPPING


خشک کپنگ کے دوران فلٹر شدہ حجامہ خون جلد کے نیچے جمع ہوجاتا ہے۔اگرDRY CUPPINGیعنی خشک کپنگ کے نتیجے میں اکٹھا کیا گیا خون نہ نکالا جائے تو یہ مواد بدن میں مختلف جگہ منتقل ہوجاتاہے۔جس کے نتیجے میں شروع میں کچھ بہتری محسوس ہوتی ہے۔اسلئے کپنگ WET CUPPINGخشک کپنگ سے بہتر ہے کیونکہ تر کپنگ سے فاسد مواد مستقل خارج ہوجاتے ہیں حجامہ کے اختتام پر چو نکہ فاسد مواد اورخون کا جماؤCPS & BLOOD CONGESTION دور ہوجاتا ہے اسلئے اس مقامی جگہ کی درد اور سوزش فوراً کم ہوجاتی ہے۔اور مقامی جگہ کی گردش خون LOCAL BLOOD FLOWبہتر ہوجاتی ہے۔شیشن کے اختتام پر ٹیشوز کاپانیTISSUE FLUID خون کی باریک نالیوں سے CAPILLARIES فلٹر ہوکر دوبارہ شامل ہوجاتاہے۔حجامہ کا نشان ECCHYMOSISچند دنوں میں ختم ہوجاتاہے۔

حجامہ اور دیگر مختلف طریقوں سے علاج کے درمیان موازنہ
1.jpg

 

2.jpg

 

 

3.jpg

4.jpg

 

5.jpg

 

6.jpg

7.jpg

 

8.jpg

9.jpg
6.jpg

11.jpg

12.jpg

13.jpg
14.jpg

15.jpg


16.jpg

17.jpg

18.jpg
19.jpg

20.jpg


21.jpg

22.jpg


23.jpg

24.jpg


25.jpg

26.jpg


27.jpg

30.jpg

29.jpg
28.jpg

33.jpg

31.jpg
32.jpg

35.jpg

34.jpg
36.jpg

37.jpg


38.jpg

39.jpg


40.jpg

43.jpg

42.jpg
41.jpg

46.jpg

45.jpg
44.jpg

47.jpg

48.jpg49.jpg
50.jpg

51.jpg


52.jpg

55.jpg

54.jpg
53.jpg

57.jpg

56.jpg
58.jpg

59.jpg


60.jpg

62.jpg

61.jpg
63.jpg

64.jpg


 

 


 

 


 

 


 

 


 

 


 

 


 

 


 

 

 

 

اہمیت حجامہ
حجامہ کی طبی حیثیت

حجامہ کیوں کیا جاتا ہے؟

حجامہ کی تاریخی حیثیت

موجودہ دور میں حجامہ

حجامہ اور مصری ماہرین کی جدید تحقیق

طیبہ تھیوری

حجامہ کی شرعی حیثیت

پیارے نبی کریم کے ارشادات

آگ سے داغنا

ممانعت کی حکمت

حجامہ کے متفرق مسائل

عورتوں کا حجامہ لگانا اور لگوانا

حالتِ احرام میں حجامہ

روزے کی حالت میں حجامہ کروانا

خواتین کا حجامہ اور غیر محرم کا مسئلہ

زہر خورانی کے بعد حجامہ

پیارے نبی نے خود جن مقامات پر حجامہ لگوایا

حجامہ کیلئے تواریخ

حجامہ سے جادو (سحر)کا علاج

جادو میں حجامہ سے فائدہ کیونکر ممکن ہے؟

حجامہ کی اجرت (فیس)

اس ضمن میں درج ذیل حدیث مبارکہ بطور دلیل موجود ہے۔

حجامہ کیلئے مخصوص تواریخ کا تعین

حجامہ اختیاری کی دس شرائط

حجامہ معالج کے اوصاف
حجامہ میں استعمال ہونے والا سامان

حجامہ لگانے کا طریقہ

مختلف مقامات پر حجامہ کے فوائد
یا فوخ /ھامہ

جبہ :

نقرہ

قمحدوہ

اخدعین

ذقن

تشریط

کاھل

ترقوہ

منکب

منگب

ناغض یاکتف

عنقیہ(سروائیکل)

ظہریہ(ڈارسل)

قطنیہ(لمبر)

عجزیہ۔عصعص

خاصرہ،ورک

مقعد

فخذ

رکبتین

ساقین

حجامہ کے سائنسی فوائد

SCIENTIFIC BENEFITS OF AL-HIJAMA

حجامہ خون اور وین خون کا فرق

IMPORTANCE OF WET CUPPING