Near Hydery Chowk, Saidpur Road, Rawalpindi

Islamic Roots

انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک روٹس راولپنڈی پاکستان
آن لائن دینی مرکز

تعارف مدیر

نام :ڈاکٹرمحمد ریاض
1998 میں گریجویشن اور ھومیو پیتھی 4سالہ کورس مکمل کیا۔1999 میں طب اسلامی پر تحقیقات کا سلسلہ شروع کیا۔طب اسلامی میں قرآن تھراپی (علاج بذریعہ قرآن) جدید تحقیقات پر مبنی۔۔۔
ذکر تھراپی۔
ریڈنگ تھراپی(علاج بذریعہ مطالعہ)
عبادات کے انسانی زندگی پر اثرات۔
طب نبوی صلیٰ اللہ علیہ وسلم۔
سنت نبوی صلیٰ اللہ علیہ اور جدید سائنس۔
نبوی غذائیں۔
اسلامک سائیکو تھراپی ( ذھنی ،نفسیاتی،جذباتی) کیفیات کا اسلام کی روشنی میں علاج.
الحمدللہ 20 سال سے ان عنوانات پر تحقیقات کا سلسلہ جاری وساری ھے اور اب تک لاکھوں افراد مستفید ہو چکے ھیں۔
اور اپنا اس کاوش کو اکابرین کے حضور پیش کر کے اپنی اصلاح کو مقدم رکھے ھوۓ ھیں۔

مسلک ……..:
ہم سب سے پہلے مسلمان ہیں اوراسلام ہی درحقیقت ہماری اصل شناخت اور چہرہ ہے ۔ اسی پر جینا اور اسی پر موت ہماری سب سے بڑی خواہش ہے ۔ قرآن وسنت ہمارے لئے مشعل راہ ہے ۔مسائل، اور فروعات میں ہم حضرت امام ابو حنیفہ ؒ کی بیان کردہ قرآن وسنت کی تشریحات پر چلتے ہیں۔ تاہم دیگر مسالک کو بھی ہم احترام اور عقیدت کی نظر سے دیکھتے ہیں اور ان کی شان میں گستاخی جائز نہیں سمجھتے عقائد میں شیخ ابو منصور ماتریدی سے ہمارا تعلق ہے ۔اشعری مکتب فکر ، متکلمین ،محدثین اورصوفیائے کرام اور تمام اہل السنۃ والجماعۃ کو ہم اہل حق سمجھتے ہیں ۔

اصلاحی تعلق :
ادارہ کے منتظم ڈاکٹر محمد ریاض صاحب کا2002ءاصلاحی تعلق ایک عظیم ھستی سید نفیس الحسینی
پاکستانی خطاط، عالم دین، روحانی شخصیت سے قائم ھوا اور 5 فروری 2008ء حضرت کی وفات کے بعد انکے خلیفہ
پیرومرشد فخرالسادات ولی کامل زینت المشائخ شیخ الحدیث والتفسیر حضرت اقدس مولانا مفتی سید جاویدحسین شاہ صاحب دامت برکاتہم العالیہ (
مہتمم جامعہ عبیدیہ فیصل آباد ) 2009ء سےنسبت قائم کی ھے۔اور حضرت والا کی اجازت سے ھفتہ وار مجلس ذکر کا اھتمام بھی کیا جاتا ھے۔

ادارہ کی پالیسیاں :

1 ) ہمارا ادارہ انسٹیٹیوٹ آف اسلامک روٹس فرقہ واریت سے بالا تر ہو کر کام کررھاھے ۔ “اپنا مسلک چھوڑو نہیں دوسروں کے مسلک کوچھیڑو نہیں “کا اصول ہمارے لیے مشعل راہ ھے ۔

2) تعلیم وتربیت ،اصلاح عقائد ، اصلاح معاشرہ ، سنتوں کی تدویج اور اسلام پر غیر مسلموں کے اعتراضات کا ردیہ ہمارے ادارے کے بنیادی پتھر ہیں انہیں پر تمام امور کی اٹھان ھے ۔

3) سروس کی کثرت اور محض بھرتی کی بجائے افراد سازی ہمارا مرکزی مقصد ومحور ہےکہ ہم معاشرے کو اپنے سے بہتر افراد فراہم کرنا چاہتے ہیں ۔

4) ادارہ اپنے تمام امور بالخصوص مالیات کے شعبے میں شرعی ضابطوں کا پابند ہوگا ۔نئے پیش آنے والے مسائل میں ضابطوں کی تعین کے لیے مستند اور معتدل دینی اداروں سے راہ نمائی لی جائے گی ۔

5)) شعبہ جات میں پیش رفت اور خاطر خواہ نتائج کے حصول کے لئے

(donation ) کا آپشن کھلا رہنا چاہئے جبکہ فیس لینے نہ لینے کا فیصلہ حسب احوال اور حسب مشاورت ہوگا (donation ) کے حصول کے لئے ہر ایسے عمل سے سختی سے گریز کیاجائے گا جس سے دین ،اہل دین یاادارہ کی عزت پر حرف آئے ۔اوقاف کا قیام بھی بہترین آپشن ہے ۔

6) سیاست برحق ہے لیکن مخصوص شرعی مصالح کی وجہ سے ادارہ کے حدود میں کسی فرد کو کسی بھی قسم کی تنظیمی سر گرمیوں کی اجازت نہ ہے اور نہ ھوگی۔

(7) اسٹاف کا تقرر کرتے ہوئے دین داری ،مہارت اور خلوص کو ترجیح حاصل ہوگی ۔

(8) اسٹاف کے ساتھ خلوص اور ہمدردی کا تعلق رکھا جائے گا۔فرق مراتب کا لحاظ رکھا جائے گا۔ان کی تربیت پر خصوصی توجہ دی جائے گی ۔

(9) اسٹاف کے اچھے مستقبل کے لیے تکافل اور اس جیسے جائز امور کو نظام میں شامل کیا جائے گا ۔

(10) تمام اہم امور مشاورت سے ہو گے مجلس شوریٰ کے ارکان تین سے کم نہیں ہوسکتے ۔

مینیجمنٹ کے لیے ہر شعبہ کا کہ الگ ذمہ دار ہوگا اور ان سب پر تین نگران ہوں گے سرپرست اعلیٰ ، مدیر ۔اور نائب مدیر اس نکتہ پر مزید غور اور بہتری کی ضرورت ہے ۔

انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک روٹس کا آغاز

(1) الحمد للہ !2009 میں انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک روٹس نے قوم کی خدمت اور دین کی نشرواشاعت کے جذبے کے تحت ایک ابتدائی دینی مکتب مدرسہ کی بنیاد رکھی ۔جس کامنشور معصوم بچوں اوربچیوں اور مستورات میں با تجوید قرآن مجید کی تعلیم کو عام کرنا ہے۔

اکابر کے مشورے سے ایک اصلاحی نصاب براے مستورات ترتیب دیا
الحمدللہ ملک بھر میں مختلف علاقوں میں ہمارے یونٹس قائم ہیں جہاں مستورات کو بنیادی دین سیکھایا جا رہا ہے
اس کے قیام میں حضرت مولانا قاضی مشتاق صاحب دامت برکاتہم العالیہ کا بھر پور تعاون شامل رہا ۔ادارہ ان کے احسانات کو کبھی فراموش نہیں کرسکتا ۔
۔

(4) اشاعت دین بذریعہ پرنٹ میڈیا اور سوشل میڈیا:
2010
سے دینی کتابوں کی اشاعت کے ساتھ 2015ء سےسوشل میڈیا کے ذریعے “انسٹیٹوٹ آف اسلامک روٹس نے آنلائن سلسلہ تدریس ” شروع کیا
جس میں

ایک سالہ اصلاحی نصاب برائے مستورات

درس قرآن

تجوید القرآن کورس ایک سالہ

تخصص فی التجوید

حدیث مبارکہ کورس

طب نبوی کورس

سیرتِ النبی کورس

فقہ کورسسز

میراث کورس

کوکنگ کورس

ٹائم مینجمنٹ کورس

ویجن کورس

پیرنٹنگ کورس

ختم نبوت کورس

اللغۃ العربیہ للمبتدئات

اللغۃ العربیہ للمتوسطات

اللغۃ العربیہ للمتقدمات

تصوف کلاس
شامل ہیں۔

ان کورسز کی تفصیل ہماری ویب سائیڈ

www.qurantherapy.org
پر دستیاب ہے
ان کورسز میں داخلے کے لیے پہلے رجسٹریشن فارم فل کرنا پڑتا ہے، جو اس لنک پر دستیاب ہے
www.qurantherapy.org

(5) بذریعہ sms مسائل معلوم کرنے کی سہولت: ۔

عوام الناس عموما علمائے کرام سے بالمشافہ سوال پوچھنے سے گھبراتے ہیں پھر داراالافتاء ان کی دسترس میں بھی نہیں ہوتے اور فون کرنے پر پیسے بھی کٹتے ہیں ان سب وجوہات کی بناء پر عوام ا لناس کی آسانی کے لئے

طریقہ : آپ کو بھی کوئی مسئلہ بذریعہ sms معلوم کرنا ہو تو ابھی اپنا سوال لکھ کر
03335208331 پر بھیج دیں ۔جواب عشاء کے بعد سے صبح تک کے اوقات میں دیاجاتا ہے جواب فوری ملنا ضروری نہیں ۔غور طلب مسائل کے جواب تحقیق کے بعد دیے جائیں گے ۔ای میل کے ذریعے جواب حاصل کرنے کے ای میل ایڈریس نوٹ کرلیں ۔

(6) ویب سائٹ www.qurantherapy.org کا اجراء: ۔

موجودہ دور میں ادارے کی تمام خدمات کو عوام الناس تک بآسانی پہنچانے کے لیے ویب سائٹ کا اجراء کیا گیا ہے

ویب سائٹ کے مقاصد :

1۔ ڈاکٹر ریاض صاحب کی تحقیقات و تجربات کو شائع کرنا ۔تا کہ مسلمانوں موجودہ حالات میں اپنی زندگی اسلام کے مطابق ڈھالنے میں شعور بیدار ہوجائے ۔

2۔ ڈاکٹر ریاض صاحب کی جدید تحقیقات اور طب سہولیات،اورطب نبوی صلیٰ اللہ علیہ وسلم کی دنیا تک رسائی ۔
3 ادارے کے ساتھ منسلک اور ادارے کے محسن حضرت مفتی محمد اسماعیل طورو صاحب دامت برکاتہم کے تحریر کردہ فتاویٰ کی اشاعت اور دیگر اسلامی آرٹیکلز کی اشاعت۔

4. پیرومرشد فخرالسادات ولی کامل زینت المشائخ شیخ الحدیث والتفسیر حضرت اقدس مولانا مفتی سید جاویدحسین شاہ صاحب دامت برکاتہم العالیہ
کے اصلاحی بیانات کی عوام الناس تک رسائی۔

5۔ اسلامک روٹس کے روحانی مربی حضرت مولانا جاوید شاہ صاحب اور حضرت مولانا قاضی مشتاق صاحب مد ظلہ العالیہ اور دیگر علماء دیوبند مثلا مفتی تقی عثمانی صاحب مدظلہم العالی وغیرہ کے بیانات اور دروس کو شائع کرنا ۔

6۔ آن لائن درس قرآن ،آن لائن درس حدیث ، آن لائن درس نظامی اور آن لائن شارٹ کورسز کا انعقاد بھی ویب سائٹ کے مقاصد میں شامل ہے جن پر بتدریج مرحلہ وار کام شروع کیا جائے گا ،فی الوقت آن لائن درس قرآن شروع کر دیاگیا ہے ۔

7. ویب سائٹ کے ذریعے مسائل کا شرعی حل ، خوابوں کی تعبیر اور مزید معلومات حاصل کرسکتے ہیں دوستوں سے گزارش ہے کہ جواب کے حصول کے لیے کم از کم ایک ہفتہ لازمی انتظار کریں ۔

8۔ادارہ مختلف قسم کی تربیتی ورکشاپ کا انعقاد کرتا ہے جس کی تفصیل آپ کو ویب سائٹ کے ذریعے میسر ہوگی یہ سب کام رفتہ رفتہ ہونگے یہ سب امور ہمارے منصوبے کا حصہ ہیں

حالیہ اور مستقبل کے منصوبے

ادارے نے طویل مشاورت کے بعد اپنے موجودہ کاموں اور مستقبل کے منصوبوں کے لیے ایک فریم ورک ترتیب دیا ہے ، جو عام فائدے کے لئے پیش کیاجارہا ہے۔ادارہ کی طرف سے ان تمام امور سے ہر طریقے سے استفادہ کرنے کی اجازت ہے ۔ بلکہ ادارہ امید کرتاہے کہ نوجوان نسل اس سے بھی اچھا اور بہتر کام کرسکتی ہے ۔

مقاصد :

سب سے پہلے تو اللہ کا احسان ہے کہ جس نے ہمیں اشرف المخلوقات میں سےبنایا اور پھر مسلمان اور پھر معاشرے میں عزت عطا فرمائی اور پھر سوچ اور صلاحیت عطافرمائی !

ہمارا ادارہ ایک مدرسے کی صورت میں سن2009عیسوی میں قائم ہوا
ایک مقصد کی صورت میں قائم کیاگیاجس کا منشور معصوم بچےا ور بچیوں اور مستورات میں قرآن کی تعلیم دینا تھا۔جس میں بچے اور بچیوں کو باتجوید قرآن کی تعلیم ماہر معلمات دیتی ہیں اس کے علاوہ بچے اور بچیوں کو آداب دین، مسنون دعائیں ،چالیس احادیث، اور اخلاقی تربیت پر مخصوص توجہ دی جاتی ہے ۔الحمد للہ اب مزید ترقی ہوئی باتجوید قرآن کی تعلیم کے ساتھ ساتھ ہفتہ وارانہ ایک کلاس رکھی گئی ہے جس میں قرآنی عربی کورس،لیول ون اور ٹو کے ساتھ ساتھ خواتین کی اخلاقی تربیت اور خواتین کو روز مرہ مسائل پر بھی خصوصی توجہ دی جاتی ہے اسکے علاوہ مرد حضرات کے لئے بھی قرآن عربی کی ایک کلاس رکھی گئی ہے جس کے ساتھ تفسیر القرآن کا خلاصہ بیان کیاجاتا ہے ۔

تمام تعلیمات ڈاکٹر صاحب کی سرپرستی اور ان کی اہلیہ کی نگرانی میں کیے جاتے ہیں۔

اس قیام کے دو سال بعد ادارہ کے ہمارے استاد محترم حضرت ڈاکٹر محمد ریاض صاحب کے دل میں اللہ پاک نے یہ بات ڈالی کہ امت مسسلمہ کے عمومی فائدے کے لئے کچھ نئے منصوبے ترتیب دیے جائیں اس کے لیے انہوں نے بہت دور اندیش پلاننگ کی ہے ۔

(1) اس منصوبہ بندی کا مقصد صرف اور صرف اللہ کی رضا اور انسانیت کو سنوارنا ہے ۔

(2)ادارہ کا نصب العین یہ ہے کہ نوجوان مرد”عورتیں اور بچے اسلامی ماحول میں مستند اساتذہ سے اسلامی تعلیمات حاصل کر کے اللہ کے دین کو زندہ کریں ۔

(3) ہم معاشرے میں ایسی تعلیم دیں گے جس سے نوجوان مردوں،عورتوں ،اور نئی نسل کا دل ودماغ ہر کام میں اللہ کی رضا بن جائے گا اور آخرت کی فکر ان میں جاگ اٹھے گی!

( 4) ہم ہمیشہ کے لیے نہ ختم ہونے والی تعلیم دیں گے ۔اورا یسا نظام قائم کریں گے کہ ان شاء اللہ ( ہمارے ادارے کو کبھی زوال نہ ہوگا ۔ ہمارے ادارے سے قیامت تک خلق خدا کم از کم ایک کروڑ لوگ فیض حاصل کریں گے اور ہزاروں گھروں کے چولہے ادارے کی وجہ سے جلیں گے ۔

اسلامک روٹس میں تعلیم و تربیت کے ساتھ ویلفیئر کے شعبے کا انعقاد کیا گیا ہے جس کے تحت دسترخوان مفت طبی سہولیات تعلیمی سہولیات مہیا کی جائیں گے غریب مستحق لوگ آسانی سے فائدہ اٹھا سکیں گے

عمو میت : اب تعلیم کیسے دی جائے ؟

کن لوگوں کو دی جائے ۔ کس انداز میں دی جائے ؟

کس موقع پر چھٹی ہو؟

گھر میں مصروف خواتین کیسے علم حاصل کریں مصروف اور job پر جانے والے حضرات کیسے اپنے دین کو پہچانیں ؟

باہر ممالک میں رہنے والوں تک ہم کیسے دین کو پہچانیں ؟

ان سب کے لئے ہم مختلف کورسز رکھیں گے ۔تاکہ مخلوق خدا میں سے کوئی شخص دین کے علم سے محرومنہ ہو ۔

مختصر پلاننگ :۔ اسلامک روٹس ختلف شعبوں میں کام کرے گا جو تمام انسانوں کے لحاظ سے ہو اور سب کے لیے عام ہو۔

پہلا شعبہ :۔

دینی اورعصری تعلیم کا امتزاج

چھوٹے بچوں کی تعلیم کے لیے اسلامک اسکول جس میں چارسال کے بچوں کو داخلہ دیاجائے گا ۔ بچے کی تربیت چار سال کی عمر سے ہی شروع کردی جائے گی ۔اسلامک اسکول Matric تک ہوگا۔

جس میں عصری تعلیم کے ساتھ ساتھ قرآن کی تعلیم بھی دی جائے گی ۔14 سال کی عمر میں میٹرک پاس حافظ قرآن اور کمپیوٹر کا ماہر بن چکا ہوگا ۔

اب درس نظامی کے شعبہ میں admission کروادیں گے۔ وہ بھی ہمارا ہی شعبہ ہے ۔

اور یہ بچی 15 سال کی عمر میں میٹرک کر چکی ہوگی تو اس کے فوراً بعد ” درس نظامی ” کورس کے ساتھ ساتھ ہم اس کو کھانا پکانا’ کپڑے سینا’ اور گھریلو کام کاج کا بھی ہنر دیں گے۔

جب یہ لڑکی 21 سال کی ہوچکی ہوگی اس وقت باعمل عالمہ کے ساتھ ساتھ میٹرک پاس کمپیوٹر کا ہنر بھی سیکھ چکی ہوگی ۔

اس کے علاوہ گھریلو کام کاج ( کپڑے سینا’ کڑھائی کرنا خوب جانتی ہوگی ) اب اسے ہم اپنے ادارہ سے اللہ کی حفاظت میں دے کر رخصت کرتے ہیں ، قابل اور بلاصلاحیت فاضلات کو ادارہ میں ہی خدمات سونپی ہوجائے گی ۔

اسلامک اسکول اور عصری تعلیم کا مقصد :َ

ہم نے اسلامک اسکول بنانے کا منصوبہ اس لیے تجویز کیا ہے ۔ جب والدین بچوں کو اسلامی علم سے نا آشنا اسکولوں میں Admission کروائیں گے ۔ تو یہی بچے اپنے مذہب سے ہاتھ دھو بیٹھے گے ۔ ان کے ننھے منے ذہنوں میں سنت نام کی کوئی چیز ہی نہیں ہوگی ، جبکہ اسلامک اسکول میں شروع دن ہی سے اسلام کا کلمہ پڑھایا جائے گا،اور نبی کا راستہ اور صحابہ کا طریقہ بتایا جائے گا،تو ان ننھے منے ذہنوں میں یہ چیزیں ابھی سے ایسی محفوظ ہوجائیں گی کہ آخر سانس تک اسلام کے کسی حکم سے رو گردانی نہیں کریں گے ۔ انشاء اللہ

وفاق المدارس کے حالیہ جلسہ عام میں جو کہ دارالعلوم کراچی کو رنگی میں منعقد ہوا تھا اس میں مفتی اعظم پاکستان نے صراحت سے یہ تجویز اہل مدارس کو پیش کی ہے کہ ” تمام مدارس اپنی اپنی حدود میں اسلامک اسکولز قائم کریں “اور فرمایا ان اسکولوں کا سالانہ امتحان وفاق المدارس ہی لے تو اور اچھا ہوگا۔”

دوسرا شعبہ(برائے خواتین )

ہمارے معاشرے کی وہ خواتین جو اپنی عمر کو غفلت میں ضائع کرچکی ہے اور اپنے وقت کو قیمتی نہ بنا پائیں اور دین سے نا آشنا رہیں ۔ لیکن اب ان کو دین کا جذبہ پیدا ہو اور ایمان جاگ اٹھا ۔لیکن اب ان کو پڑھنا بہت مشکل ہوگا بے شمار مسائل کا سامنا ہے ۔ وقت کی تنگی ہے گھریلو کام اور ذمہ داریاں زیادہ ہیں ۔

وہ بھی مایوس نہ ہوں ان کے لئے بھی ہمارے ادارے کے دروازے کھلے ہیں ۔

ان خواتین کی روزانہ یا ہفتہ واری بنیادوں یا حسب احوال کلاس ہوگی ۔

جس میں ہم انہیں تجوید قواعد کے ساتھ سکھائیں گے اس کے ساتھ ساتھ روز مرہ کے مسائل مشقوں کے ساتھ کروائیں گے ۔ اور تعلیم ہلکی پھلکی دی جائے گی ۔ جس میں خاص طور سے شوہر کے حقوق، سسرال میں رہنے کے طریقہ ۔ بچوں کی تربیت کیسے کی جائے ؟ یہ اور اس طریقے کے مسائل پر زور دیاجائے گا ۔ ان خواتین کو مسنون دعائیں ، چالیس احادیث بھی یاد کروائی جائیگی ۔

تیسرا شعبہ : College/school کی لڑکیوں کےلئے :۔

ماڈل کالج /اسکول سے پڑھ کر آنے والی لڑکیاں ہی توہمارے معاشرے کا سرمایہ ہیں اگر یہ لڑکیاں متقی بن جائیں اور مغربیت فیشن زدہ زندگی کو چھوڑ کر سادگی پر آجائے اور بے پردگی ختم کر کے پردے میں آجائیں تو معاشرے میں جو چاروں طرف فساد پھیلا ہوا ہے ۔اس فساد میں کمی آجائے گی ۔

اس لیے اسکول کالج کی لڑکیوں کےلیے جون ۔جولائی کی چھٹیوں میں سمر کورس رکھیں جائیں گے ۔اور اس کورس کی ترتیب اس طرح بنائے جائے گی کہ ان نوجوان لڑکیوں کے دل ودماغ میں دو مہینوں میں پورے دین کا خلاصہ آجائے اور دین کی سمجھ اور محبت پیدا ہوجائے ۔ کورس میں عقائد،ناپاکی کے مخصوص مسائل ،پردہ ،زیب وزینت ،اخلاقیات اور فکر آخرت کے عنوانات کو خصوصی اہمیت دی جائے گی۔

چوتھا شعبہ

مرد حضرات کے لئے

جن مردوں نے اپنی عمر غفلت میں گزاردی اوردین سے نا آشنا رہے یا دین سے نا آشنا تو نہیں ہے لیکن وقت اور حالات نے دین کی تربیت سے محروم رکھا ،

ان کے لئے ہفتہ وار ی /یا حسب احوال کلاس ہوگی جن میں ان حضرات کو تجوید کے ساتھ ساتھ چالیس احادیث مسنون دعائیں یاد کروائیں جائے گی اور روز مرہ کے مسائل میں اور تجارت کے مسائل سیکھا ئے جائیں گے ۔ گھر میں اخلاق سے رہنے کو اجاگر کیا جائے گا ۔

پانچواں شعبہ

صرف سماعت پر موقوف

وہ خواتین جو لکھنا پڑھنا نہیں جانتی لیکن دینی جذبہ رکھتی ہیں ان خواتین کے لئے ایک کلاس ہوگی ۔جس میں یہ خواتین صرف سماعت پر اکتفاء کریں گی ۔

ان کو دینی مسائل کی مشق زبانی کروائی جائے گی ۔
تجوید پڑھائی جائے گی ۔
احادیث یاد کروائی جائیں گی۔
اور رہن سہن کا طریقہ بتایا جائے گا ۔
(چھٹا شعبہ ( دین کی بات بذریعہ SMS

وہ خواتین و حضرات جو بالکل فرصت نہیں رکھنے کہ وہ مدرسہ میں آکر کچھ سیکھیں یا غیر ممالک میں رہائش پذیر ہیں تو ایسے خواتین و حضرات بھی مایوس نہ ہوں وہ بھی ہمارے کام سے فائدہ اٹھائیں بذریعہ SMS جس کی تفصیل اوپر گزرچکی ۔

(ساتواں شعبہ ( دین کی اشاعت بذریعہ سوشل میڈیا نیٹ ورک

دین کی بات بذریعہ واٹسپ ٹیلیگرام فیس بک گروپ ٹویٹر یوٹیوب زوم اور دیگر سوشل میڈیا ایپلی کیشن کے ذریعے ہمارے ممبر بنیں
وہ خواتین و حضرات جو بالکل فرصت نہیں رکھتے کہ وہ مدرسے میں آکر کچھ سیکھیں یا غیر ممالک میں رہائش پذیر ہیں تو ایسے مرد حضرات بھی مایوس نہ ہوں آپ ہمارے ممبر بنے ہم آپ کو سوشل میڈیا نیٹ ورک کے ذریعہ سے تصدیق شدہ اسلامی تعلیمات آپ تک پہنچائیں گے وہ تمام حضرات ہمارے سوشل میڈیا کو جوائن کر کے دین کو سیکھ سکتے ہیں

سوشل میڈیا نیٹ ورک جوائن کرنے کا طریقہ
دیے گئے نمبر پر میسج ج وائس میسج ج کر کے اپنا نام اور علاقے کا نام بھیج دیں ہم آپ کو اپنے گروپ میں ایڈ کریں گے اسلامی معلومات پر مبنی تمام تعلیمات نعت اسلامی معلومات پر مبنی تمام لٹریچر آپ کو بھیج دیا جائے گا سوشل میڈیا کے ذریعے ملک میں یہ ملک سے باہر رہنے والوں کو دین کی دعوت دی جائے گی اس میں مختلف کورسز ہوں گے

(نواں شعبہ ( عوامالناس گھریلو پریشانیوں کے لئے قرآن اور احادیث کی دعاؤں میں سے وظیفہ حاصل کریں

(دسواں شعبہ ( رشتے کرانے کا شعبہ :

جو والدین اپنے بچوں کے رشتوں کے لئے پریشان ہیں وہ ا س شعبہ سے رجوع کریں !

ہم صرف اشارہ دیں گے تحقیق والدین خود اپنے ذمہ داری پر کریں !

فیس : ان سب شعبوں کی فیس عوام کی سہولت کے لحاظ سے ہوگی ۔اور بعض شعبوں کی کوئی فیس مقرر نہیں ہوگی ۔
غریب اور مستحق افراد کے لیے ۔روزانہ دسترخوان اور مفت طبی سہولت فراہم کرنے کا اھتمام کیا جاتا ھے۔

صحت :۔ لیکن یاد رہے کہ !

ان سب شعبوں کو صحیح اور ٹھیک طریقے سے چلانے کے لیےا یک اہم چیز صحت ہے ادارہ کو چلانے والوں کی صحت اچھی ہوگی تو سب کام ترتیب اور ٹھیک ٹھیک چ تولے گا۔ادارے کے ذمہ داران ۔بلکہ تمام اسٹاف ا ور طلبہ کو بھی ٹائممینجمنٹ ، سلپ منیجمنٹ اور حفظان صحت کے کورس کرنےچاہئیں !